دوحہ: قطر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے اس کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع رائٹرز اور انادولو کی رپورٹ کے مطابق قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد بھی واشنگٹن کسی حل تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
قطری وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ فریقین کسی قابلِ عمل سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں، تاہم انہوں نے کسی حتمی معاہدے یا اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ ان کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ موجودہ علاقائی حالات میں مکمل یا مثالی سمجھوتے کا انتظار کرنے کے بجائے ایسا معاہدہ تلاش کرنا ضروری ہے جو کشیدگی میں کمی اور مزید تصادم کو روک سکے۔
یہ سفارتی سرگرمی ایسے وقت جاری ہے جب آبنائے ہرمز اور ایران کے گرد فوجی صورتحال بدستور حساس ہے۔ ایرانی بحریہ کے مطابق مشرقی آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آیا۔ اس واقعے سے متعلق معلومات ایرانی ذرائع سے سامنے آئی ہیں اور خطے میں پہلے سے موجود سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا کہ انہوں نے گزشتہ 48 گھنٹوں میں متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے علاقائی صورتحال پر رابطے کیے۔ ان رابطوں میں پاکستان، ترکیہ، قطر، عمان، مصر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، تیونس اور عراق سمیت مختلف ممالک شامل تھے۔ تہران نے قومی خودمختاری، بیرونی مداخلت اور علاقائی سلامتی سے متعلق اپنا موقف ان رابطوں میں پیش کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ تہران کے نمائندوں سے بات کر رہی ہے۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی نئے امریکی حملے کا جواب دیا جائے گا۔ اس لیے سفارتی رابطوں کے ساتھ فوجی کشیدگی کا خطرہ بھی موجود ہے، اور فریقین کے متضاد بیانات کے باعث کسی ممکنہ سمجھوتے کے نتائج کے بارے میں ابھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
قطر ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ موجودہ کوششوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ واشنگٹن اور تہران جنگ بندی، پابندیوں، جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز سے متعلق اختلافات پر کس حد تک مشترکہ بنیاد تلاش کر پاتے ہیں۔ فی الحال قطری بیان پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن باقاعدہ معاہدہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
