ریاض: سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے ریاض ریجن کی طرف داغا گیا کروز میزائل روک کر تباہ کر دیا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ہفتے کو بتایا کہ میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے فضائی دفاعی نظام نے انٹرسیپٹ کیا۔

اتحاد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کروز میزائل کا رخ ریاض کے علاقے کی جانب تھا۔ فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ حوثیوں کی جانب سے اس مخصوص میزائل کے بارے میں دستیاب رپورٹس میں فوری طور پر الگ تفصیلی بیان شامل نہیں تھا، اس لیے حملے کی نوعیت اور ہدف سے متعلق معلومات سعودی قیادت والے اتحاد کے سرکاری موقف سے منسوب ہیں۔

یہ واقعہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان حالیہ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق اس سے ایک روز قبل سعودی فضائی دفاع نے ایک ڈرون بھی تباہ کیا تھا، جبکہ جمعے کی صبح نجران کی جانب آنے والے دو بیلسٹک میزائل روکنے اور مکہ ریجن میں ایک ڈرون انٹرسیپٹ کرنے کی اطلاعات بھی دی گئی تھیں۔

سعودی عرب 2015 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔ حوثی تحریک نے 2014 میں دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے بڑے حصوں پر قبضہ کیا تھا، جس کے بعد یمن کی خانہ جنگی میں علاقائی مداخلت بڑھی۔ حالیہ مہینوں میں محاذوں پر لڑائی اور سعودی علاقوں کی جانب میزائل و ڈرون حملوں کی اطلاعات نے کشیدگی کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔

ریاض سعودی عرب کا سیاسی و انتظامی مرکز ہے، اس لیے دارالحکومت کے خطے کی جانب کسی کروز میزائل کا داغا جانا سکیورٹی اعتبار سے اہم پیش رفت ہے۔ تاہم اس واقعے میں دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق میزائل ہدف تک نہیں پہنچا اور اسے فضا میں تباہ کر دیا گیا۔

علاقائی تنازع میں دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں اور نقصانات سے متعلق دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہر موقع پر ممکن نہیں ہوتی؛ اسی لیے تازہ واقعے میں میزائل کی شناخت، اس کے راستے اور انٹرسیپشن سے متعلق تفصیل سعودی اتحاد کے ترجمان اور اسے رپورٹ کرنے والے خبر رساں اداروں سے منسوب کی جا رہی ہے۔ صورتحال میں مزید تبدیلی کی صورت میں متعلقہ فریقوں یا آزاد ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات اس واقعے کی مکمل تصویر واضح کریں گی۔