اسٹاک ہوم: بیلجیئن نژاد طبیعیات دان فرانسس ہالزن کو 2026 کا نوبیل انعام برائے طبیعیات دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق انہیں جنوبی قطب میں قائم آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کی تیاری اور فلکیاتی ماخذ سے آنے والے بلند توانائی کے نیوٹرینو کی دریافت میں فیصلہ کن سائنسی کردار پر اعزاز دیا گیا۔

نوبیل کمیٹی نے اس سال کے انعام کو خلا سے آنے والے انتہائی کم تعامل کرنے والے ذرات، یعنی نیوٹرینو، کے مطالعے سے جوڑا۔ آئس کیوب آبزرویٹری جنوبی قطب کی برف کے ایک بہت بڑے حجم میں نصب روشنی کے حساس آلات پر مشتمل ہے۔ یہ نظام ان نایاب ذرات کے بالواسطہ آثار کو ریکارڈ کرتا ہے جو کائنات کے نہایت توانائی بخش مظاہر سے زمین تک پہنچتے ہیں۔ اکیڈمی کے مطابق ہالزن کی سائنسی بصیرت اور قیادت اس منصوبے کی تشکیل اور کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی تھی۔

82 سالہ فرانسس ہالزن بیلجیم کے شہر ٹینن میں پیدا ہوئے اور امریکا کی یونیورسٹی آف وسکونسن-میڈیسن میں پروفیسر ہیں۔ اعلان کے بعد انہوں نے ٹیلی فون کے ذریعے کہا کہ یہ اعزاز ان کے لیے حیران کن اور باعث مسرت ہے۔ نوبیل کمیٹی نے ان کے کام کو ایسی تحقیق قرار دیا جس نے انتہائی دور دراز اور پرتوان فلکیاتی واقعات کو ایک نئے ذرے کے ذریعے سمجھنے کی راہ کھولی۔

2026 کا طبیعیات کا انعام رواں نوبیل سیزن کا دوسرا اعلان ہے۔ اس سے ایک روز پہلے طب کا نوبیل انعام آپٹوجینیٹکس سے متعلق تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے لیے اعلان کیا گیا تھا۔ طبیعیات کے بعد کیمیا، ادب، امن اور معاشیات کے انعامات مرحلہ وار سامنے آئیں گے۔

نوبیل انعام کے ساتھ ڈپلومہ، طلائی تمغہ اور 12 ملین سویڈش کرونر کی رقم دی جاتی ہے۔ انعامات 10 دسمبر کو الفریڈ نوبیل کی برسی پر ہونے والی رسمی تقریب میں دیے جائیں گے۔