واشنگٹن: امریکا نے متحدہ عرب امارات کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے ایک ممکنہ دفاعی سودے کی منظوری کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ فروخت میں ایڈوانسڈ پریسیژن کِل ویپن سسٹم (APKWS) کے 10 ہزار تک گائیڈنس سیکشنز شامل ہیں، جو عام راکٹوں کو زیادہ درست نشانہ لگانے والی گائیڈڈ گولہ باری میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
محکمہ خارجہ نے کہا کہ مجوزہ فروخت سے متحدہ عرب امارات کو موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے، اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے اور امریکی افواج کے ساتھ آپریشنل مطابقت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ امریکی حکام نے اسے واشنگٹن کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد سے بھی جوڑا، کیونکہ یو اے ای کو امریکا کا ایک اہم دفاعی شراکت دار قرار دیا جاتا ہے۔
APKWS نظام راکٹوں میں رہنمائی کی صلاحیت شامل کرتا ہے اور اسے ڈرون جیسے نسبتاً کم لاگت فضائی اہداف کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس نوعیت کے ہتھیاروں کی اہمیت خلیج میں بڑھتی ہوئی ڈرون اور میزائل دفاعی ضروریات کے تناظر میں بڑھی ہے۔ خطے میں ایران سے جاری تنازع کے دوران امریکا کے اتحادی خلیجی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اسی عرصے میں کویت کے لیے تقریباً 400 ملین ڈالر مالیت کی پیٹریاٹ میزائلوں کی مرمت اور واپسی کی خدمات کی ممکنہ فروخت بھی منظور کی۔ حکام کے مطابق یہ خدمات کویت کے داخلی دفاع اور اہم تنصیبات کے تحفظ کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ہیں۔ الگ اطلاعات کے مطابق مصر کے لیے جیولن میزائلوں سے متعلق ایک ممکنہ پیکیج بھی امریکی منظوری کے عمل میں شامل ہے۔
یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ محکمہ خارجہ کی منظوری کسی دفاعی سودے کی حتمی تکمیل نہیں ہوتی۔ امریکی غیر ملکی فوجی فروخت کے طریقہ کار میں کانگریس کو مجوزہ سودوں کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے اور حتمی مذاکرات میں قیمت، مقدار یا دیگر شرائط تبدیل ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ایک ارب ڈالر کی رقم اور 10 ہزار گائیڈنس سیکشنز کو مجوزہ زیادہ سے زیادہ حجم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تازہ منظوری ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خلیجی ریاستیں فضائی اور میزائل دفاع پر اخراجات بڑھا رہی ہیں۔ کم قیمت ڈرونز کے خلاف مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنے کے بجائے نسبتاً کم لاگت کے درست نشانہ لگانے والے نظام دفاعی منصوبہ بندی میں اہم متبادل سمجھے جا رہے ہیں۔
