اسلام آباد/ماسکو: افغانستان کے بارے میں آٹھویں ماسکو فارمیٹ مشاورتی اجلاس کا اختتام مشترکہ اعلامیے کے بغیر ہوا، اور روسی حکام کے مطابق حتمی دستاویز پر اتفاق نہ ہونے کی بنیادی وجہ پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان اختلاف تھا۔ اجلاس میں خطے کے متعدد ممالک کے خصوصی نمائندوں اور سینئر حکام نے شرکت کی۔

روس کے صدارتی نمائندہ برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے کہا کہ حتمی مشترکہ بیان تیار کرتے وقت افغان اور پاکستانی فریق ایک نکتے پر متفق نہیں ہوسکے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اختلاف کا مرکزی پہلو افغانستان اور دہشت گردی سے متعلق زبان تھی۔ ماسکو فارمیٹ 2016-17 سے افغانستان پر علاقائی سفارتی مشاورت کے اہم پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے۔

پاکستان کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان محمد صادق نے اجلاس میں اسلام آباد کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے اور افغان طالبان کی قیادت کے ساتھ دہشت گردی کے مسئلے پر سیاسی و سفارتی رابطے کرتا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ افغان حکام اس نوعیت کے الزامات کی مختلف مواقع پر تردید یا مخالفت کرتے رہے ہیں۔

افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان کے بیانات اور اقدامات پر تنقید کی اور کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے مسائل بات چیت اور سفارت کاری سے حل کیے جاسکتے ہیں۔ روس نے بھی کشیدگی کم کرنے میں مدد کی پیشکش کی، تاہم کابلوف نے واضح کیا کہ دوطرفہ تنازعات کا حل ماسکو فارمیٹ کا بنیادی مقصد نہیں۔

اجلاس میں افغانستان، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے نمائندے شریک ہوئے، جبکہ بیلاروس اور مصر مہمان کی حیثیت سے موجود تھے۔ مشترکہ اعلامیہ نہ بن پانا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی تنازع وسیع علاقائی اتفاق رائے کو بھی متاثر کررہا ہے، تاہم اجلاس کے ناکام ہونے یا علاقائی مذاکرات ختم ہونے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

یہ رپورٹ ڈان کی 6 اکتوبر 2026 کی تفصیلی خبر اور اس میں روسی، پاکستانی اور افغان عہدیداروں سے منسوب بیانات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ متنازع دعووں کو متعلقہ فریقوں سے منسوب رکھا گیا ہے اور انہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتیجہ قرار نہیں دیا گیا۔