استنبول: فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے غزہ کی پٹی تک پہنچنے کے لیے ایک نئے بین الاقوامی بحری مشن کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت شریک جہاز یورپ کی مختلف بندرگاہوں کا سفر مکمل کرنے کے بعد اکتوبر 2026 میں غزہ کی ساحلی حدود تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ کولیشن نے یہ اعلان 2 ستمبر کو جاری بیان میں کیا، جبکہ پاکستانی میڈیا میں اس کی تفصیلات 4 اور 5 ستمبر کو رپورٹ ہوئیں۔
منتظمین کے مطابق مشن کا پہلا، بندرگاہ بہ بندرگاہ مرحلہ پہلے ہی جاری ہے۔ فریڈم فلوٹیلا کے جہاز ہندالہ دوم نے جون اور جولائی کے دوران ناروے، سویڈن اور ڈنمارک کی بندرگاہوں کا دورہ کیا۔ ایک اور جہاز کیٹ اگست میں برطانیہ کے شہر برسٹل سے روانہ ہوا اور آئرلینڈ، جرمنی اور فرانس میں رکا۔ آئندہ مرحلے میں اسپین، پرتگال اور اٹلی کی بندرگاہوں پر قیام کے بعد جہازوں کو غزہ کی جانب بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
کولیشن نے واضح کیا ہے کہ اکتوبر کی تاریخ غزہ پہنچنے کی منصوبہ بند کوشش سے متعلق ہے، کامیاب رسائی یا طے شدہ آمد کی ضمانت نہیں۔ مکمل روانگی کی تاریخ، شامل جہازوں کی حتمی تعداد، مسافروں کی فہرست، امدادی سامان کی مقدار اور غزہ کے نزدیک اختیار کیے جانے والے بحری راستے کی تفصیل ابھی جاری نہیں کی گئی۔ بندرگاہوں اور عوامی تقریبات کا مکمل شیڈول انتظامات حتمی ہونے کے بعد بتانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
مشن میں انسانی حقوق کے کارکن، ٹریڈ یونین نمائندے، منتخب عوامی عہدیدار، صحافی، طبی ماہرین اور فلسطینی حقوق کے دیگر حامی شامل ہونے کی توقع ہے۔ یورپی بندرگاہوں پر عوامی اجتماعات، میڈیا سرگرمیاں اور جہازوں کے دورے منعقد کیے جائیں گے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے کا مقصد غزہ کی صورت حال پر عوامی حمایت اور حکومتوں پر سفارتی دباؤ بڑھانا ہے۔
فریڈم فلوٹیلا کولیشن اسرائیلی بحری پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتا ہے اور انہیں چیلنج کرنا مشن کا بنیادی مقصد بتاتا ہے۔ اتحاد نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جہازوں کے لیے محفوظ اور بلا رکاوٹ راستہ یقینی بنانے، غزہ میں خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیا تک غیر محدود رسائی کی حمایت کرنے اور کسی ممکنہ حملے، قبضے، راستہ بدلنے یا حراست کی صورت میں فوری سفارتی اقدام کا اعلان کریں۔ یہ مطالبات اور قانونی تعبیر کولیشن کا مؤقف ہیں۔
اتحاد کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی رکن زوہر چیمبرلین ریگیو نے کہا کہ ہر بندرگاہ پر فلسطینیوں کے وقار اور آزادی کا مطالبہ اٹھایا جائے گا اور اکتوبر میں عالمی یکجہتی کا پیغام غزہ کے ساحل تک لے جانے کی کوشش ہوگی۔ امریکی انجینئر ایڈورڈ ڈیجیلیو نے مشن میں شامل افراد کے لیے سنگین خطرات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے شہری سطح کی عدم تشدد پر مبنی کارروائی قرار دیا۔
کولیشن نے دعویٰ کیا کہ 2026 کے موسم بہار میں پہلے بحری مشن کے شرکا کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے حملوں، حراست اور شدید بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ بیان میں مارپیٹ، ٹیزر کے استعمال، جسمانی چوٹوں اور جنسی حملے جیسے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے۔ یہ منتظمین اور رضاکاروں کے دعوے ہیں؛ تازہ اعلان میں ان الزامات کی کسی آزاد عدالتی یا تحقیقاتی تصدیق شامل نہیں اور موجودہ مشن پر اسرائیلی حکام کا فوری تفصیلی جواب رپورٹ نہیں ہوا۔
فریڈم فلوٹیلا کولیشن 2010 سے مختلف ممالک کی سول سوسائٹی تنظیموں کو غزہ کے لیے بحری مہمات میں اکٹھا کرتا رہا ہے۔ نئے اعلان میں 2010 کے ماوی مرمرہ واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا، لیکن موجودہ مشن کے شرکا، انتظام اور جہاز پچھلی مہمات سے الگ ہیں۔ تاریخی واقعات کا ذکر نئی کوشش کے خطرات اور منتظمین کے تسلسل کے پس منظر کے طور پر کیا گیا ہے۔
آئندہ قابلِ تصدیق مراحل میں یورپی بندرگاہوں کا مکمل شیڈول، جہازوں کی حتمی رجسٹری، شرکا اور امدادی سامان کی تفصیل، اکتوبر کی روانگی، متعلقہ ساحلی ریاستوں کی اجازت اور اسرائیلی حکام کا باضابطہ مؤقف شامل ہوں گے۔ فی الحال مصدقہ پیش رفت ایک نئے مشن کا اعلان اور یورپ میں جاری عوامی رابطہ سفر ہے؛ غزہ تک اس کی رسائی ابھی مستقبل کا منصوبہ ہے۔




