جنیوا: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے جنین، نور شمس اور طولکرم پناہ گزین کیمپوں کی پوری فلسطینی آبادی کو بے دخل کرنے اور واپسی سے روکنے کا اسرائیلی عمل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور انسانیت کے خلاف جبری منتقلی کے جرم کے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ 4 ستمبر 2026 کو جاری رپورٹ نے جنوری اور فروری 2025 میں شروع ہونے والی کارروائیوں اور ان کے طویل اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز نے آپریشن آئرن وال کے دوران تینوں کیمپوں میں شہریوں کو ہلاک کیا، سینکڑوں گھروں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، پانی و بجلی منقطع کی، انسانی امداد کی رسائی روکی اور گھر گھر جا کر رہائشیوں کو نکلنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ نتائج انسانی حقوق دفتر کی آزاد نگرانی اور دستاویزی کام پر مبنی ہیں۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے نئی رپورٹ پر مکمل باضابطہ جواب زیر حوالہ اعلامیے میں شامل نہیں، البتہ انہوں نے کارروائی میں ہلاک افراد کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 تک جنین کیمپ میں تقریباً 52 فیصد، نور شمس میں 48 فیصد اور طولکرم میں 36 فیصد عمارتیں تباہ یا متاثر ہو چکی تھیں۔ اقوام متحدہ نے فضائی حملوں، بکتر بند بلڈوزروں اور کنٹرول شدہ دھماکوں کے ذریعے آبادیوں کو ناقابل رہائش بنانے اور لوگوں کی واپسی روکنے کو، لازمی فوجی ضرورت نہ ہونے کی صورت میں، بین الاقوامی قانون کے تحت ناقابل اجازت قرار دیا۔ دفتر نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے اجتماعی سزا اور نسلی صفائی کے خدشات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اقوام متحدہ کی قانونی و انسانی حقوق کی تشخیص ہے، حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا کہ آپریشن کے طریقۂ کار سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ مقصد زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو نکالنا اور مزید غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے لیے جگہ بنانا تھا۔ انہوں نے اسرائیل سے جبری بے دخلی روکنے اور بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسرائیل عام طور پر مغربی کنارے میں اپنی کارروائیوں کو سلامتی اور مسلح گروہوں کے خلاف اقدامات قرار دیتا ہے، لیکن اس مخصوص رپورٹ میں پیش کردہ ہر نتیجے پر اس کا تفصیلی جواب دستیاب نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ زیر جائزہ مدت میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں 102 فلسطینی، جن میں 21 بچے شامل تھے، ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان میں متعدد غیر مسلح افراد ایسے تھے جو بظاہر فوری خطرہ نہیں تھے۔ اسرائیلی قابض حکام نے ہلاک ہونے والوں کو دہشت گرد قرار دیا، مگر انسانی حقوق دفتر نے انفرادی واقعات اور طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان ہلاکتوں کی فوجداری ذمہ داری یا ہر واقعے کے حالات کا حتمی تعین مجاز آزاد تحقیقات یا عدالتی عمل سے ہوگا۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے 23 فروری 2025 کو فوج کو تینوں کیمپوں میں رہنے اور بے دخل فلسطینیوں کو واپس نہ آنے دینے کا حکم دیا تھا۔ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے مطابق جولائی 2026 تک 33 ہزار 362 فلسطینی پناہ گزین بدستور اپنے گھروں سے جبری طور پر دور تھے۔ تینوں کیمپ مغربی کنارے کے ان 19 کیمپوں میں شامل ہیں جو 1948 کی نکبہ کے بعد بے دخل فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے قائم ہوئے اور اقوام متحدہ کی ایجنسی کے زیر انتظام رہے ہیں۔

انسانیت کے خلاف جرم کا قانونی تعین مخصوص عناصر، منظم یا وسیع حملے، علم اور ذمہ داری سے متعلق شواہد پر منحصر ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ نے جبری منتقلی کے بارے میں سنگین خدشہ اور ممکنہ قانونی درجہ بیان کیا ہے، مگر کسی فرد یا ریاستی اہلکار کے خلاف عدالتی سزا نہیں سنائی۔ آئندہ اہم مراحل میں اسرائیلی جواب، متاثرین کی واپسی، انسانی امداد کی بحالی، آزاد تفتیش اور بین الاقوامی قانونی اداروں کی ممکنہ کارروائی شامل ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کا فوری مطالبہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کی مزید جبری بے دخلی روکی جائے، بے دخل خاندانوں کی محفوظ واپسی ممکن بنائی جائے اور تباہی و ہلاکتوں کے ذمہ داروں کا قانون کے مطابق احتساب کیا جائے۔