کٹھمنڈو: نیپال میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودوں کے نو دن بعد دریائے تریشولی پر قائم اپر تریشولی 3 اے پن بجلی منصوبے کی ایک سرنگ سے دو کارکنوں کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ نیپالی حکام کے مطابق 4 ستمبر 2026 کو ہونے والی یہ کارروائی 26 اگست کی برفانی، چٹانی اور مٹی کی بڑی سلائیڈ کے بعد تریشولی دریا کے ساتھ واقع پن بجلی منصوبوں کی سرنگوں سے پہلی کامیاب زندہ بازیابی ہے۔

توانائی کے وزیر بیراج بھکتا شریستھا کے دفتر نے بازیاب افراد کی شناخت سنجے ساہ اور کبیر مہارجن کے نام سے کی۔ سنجے ساہ منصوبے میں مکینیکل فورمین اور کبیر مہارجن مکینیکل سپروائزر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ نیپالی حکام کی جاری کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں ایک کارکن کو زمین میں بنائے گئے راستے سے اسٹریچر پر نکالتے اور دوسرے کو ایک ریسکیو اہلکار کی پشت پر امدادی خیمے تک لے جاتے دیکھا گیا۔

وزیر توانائی کے ایک معاون کے مطابق مہارجن اپنے ہاتھ اور پاؤں حرکت نہیں دے پا رہے تھے، جبکہ ساہ کی چوٹیں فوری طور پر جان لیوا نوعیت کی نہیں بتائی گئیں۔ دونوں کو طبی معائنے اور علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کی مکمل تشخیص، طویل مدتی صحت اور نو روز تک سرنگ میں زندہ رہنے کے حالات کی تفصیل ابھی سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئی، اس لیے ان کی آئندہ طبی حالت سے متعلق قیاس آرائی مناسب نہیں۔

حکام اور ریسکیو کارکنوں کا اندازہ ہے کہ 26 اگست کو دریائے تریشولی کے بالائی حصے میں گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد آنے والی برف، پتھر اور کیچڑ کی شدید رو میں کم از کم 900 افراد دریا کے ساتھ قائم چھ پن بجلی منصوبوں کی سرنگوں میں پھنس گئے تھے۔ یہ تعداد ایک آپریشنل تخمینہ ہے؛ ہر شخص کی انفرادی حیثیت، مقام اور زندہ ہونے کی تصدیق الگ تلاش و شناخت کے عمل سے ہوگی۔ دو کارکنوں کی بازیابی کے باوجود باقی لاپتا افراد کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا۔

رائٹرز کے مطابق نیپالی حکام نے ملک میں اس آفت سے کم از کم 1,252 افراد کی ہلاکت بتائی ہے، جبکہ 4,200 سے زیادہ لوگ لاپتا اور ہزاروں بے گھر ہیں۔ سیلابی ریلوں نے چین کے تبت سے ملحق سرحدی خطے کے قصبوں اور دیہات میں گھروں، سڑکوں اور اسکولوں کو بہا دیا۔ چین نے تبت میں 21 ہلاکتیں اور 541 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی۔ مختلف علاقوں کے اعداد الگ قومی حکام نے جاری کیے ہیں اور تلاش جاری رہنے کے باعث ان میں تبدیلی ممکن ہے۔

اپر تریشولی 3 اے اور دیگر منصوبوں کی سرنگوں میں ریسکیو کارروائی کو پانی، کیچڑ، ملبے، تباہ شدہ رسائی راستوں اور غیر مستحکم پہاڑی ڈھلوانوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کسی سرنگ تک رسائی حاصل کرنا اس کے اندر موجود ہر شخص تک فوری پہنچنے کی ضمانت نہیں دیتا۔ حکام کو ریسکیو اہلکاروں کی حفاظت، ہوا کی فراہمی، ملبہ ہٹانے اور مزید تودے گرنے کے خطرے کے ساتھ تلاش جاری رکھنی ہے۔

بازیاب کارکنوں کے بیانات سے سرنگوں کی اندرونی حالت، ممکنہ محفوظ حصوں اور دوسرے پھنسے افراد کے مقامات کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں، لیکن زیر حوالہ سرکاری بیان میں ایسی کسی نئی اطلاع کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے ریسکیو حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلی یا مزید زندہ افراد کی موجودگی کے بارے میں تصدیق آئندہ حکام ہی کریں گے۔

تازہ پیش رفت ایک محدود مگر اہم کامیابی ہے: نو دن بعد دو کارکن زندہ ملے اور ہسپتال پہنچائے گئے۔ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور ہزاروں لاپتا افراد کے تناظر میں تلاش، شناخت، طبی امداد، بے گھر آبادی کی بحالی اور پن بجلی منصوبوں کے حفاظتی جائزے کا عمل ابھی جاری ہے۔ لاپتا شخص کو اس وقت تک ہلاک قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک مجاز حکام شناخت اور تصدیق مکمل نہ کریں۔