اسلام آباد: وفاقی حکومت نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے نفاذ میں تبدیلی کرتے ہوئے سبسڈی حاصل کرنے کے لیے کم از کم مقدار میں پیٹرول خریدنے کی شرط ختم کر دی ہے۔ اس ترمیم کا مقصد ایسے اہل صارفین کے لیے رعایت تک رسائی آسان بنانا ہے جو ایک وقت میں کم مقدار میں ایندھن خریدتے ہیں۔ اسکیم عالمی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے اثرات محدود کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی۔

حکومتی تفصیلات کے مطابق موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے اہل مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے رعایت دی جا رہی ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے اہل مالکان کے لیے یہی رعایت ماہانہ 30 لیٹر تک دستیاب ہے۔ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کے مطابق تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ افراد اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حکومت نے اس پروگرام کے لیے 75 ارب روپے کی ہدفی سبسڈی کی منظوری دی تھی۔

نئی تبدیلی کے بعد اہل صارف کو رعایت لینے کے لیے کسی مقررہ کم از کم مقدار کی خریداری کا انتظار نہیں کرنا ہوگا۔ اس سے بالخصوص روزانہ یا محدود مقدار میں پیٹرول خریدنے والے موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کے لیے اسکیم کا عملی استعمال آسان ہونے کی توقع ہے۔ سبسڈی ایک ڈیجیٹل نظام کے ذریعے دی جا رہی ہے اور شکایات یا پٹرول پمپس کو درپیش مسائل کے لیے اطلاعات کے شعبے کی جانب سے کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے۔

یہ ریلیف ایسے وقت دیا جا رہا ہے جب پاکستان، جو اپنی توانائی ضروریات کے بڑے حصے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، عالمی تیل قیمتوں اور سپلائی روٹس میں خلل کے اثرات سے نمٹ رہا ہے۔ حکومت نے اس کے ساتھ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کو تین ماہ کے لیے 50 فیصد کم کرنے اور دیگر کفایتی اقدامات بھی نافذ کیے ہیں۔ فیول ریلیف اسکیم کی اہلیت، ماہانہ حد اور ڈیجیٹل تصدیق کے قواعد بدستور لاگو ہیں؛ تازہ ترمیم بنیادی طور پر کم از کم خریداری کی شرط ہٹانے سے متعلق ہے۔