اسلام آباد: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی کی پیمائش کرنے والا حساس قیمت اشاریہ (SPI) 17 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر 10.64 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ ایک ہفتے کے مقابلے میں اشاریے میں 0.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق توانائی کی بلند قیمتیں اور ضروری اشیائے خورونوش پر بڑھتا دباؤ ہفتہ وار مہنگائی میں اضافے کے اہم عوامل رہے۔

اعدادوشمار میں مختلف بنیادی اشیا کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ دکھایا گیا۔ پٹرول کی قیمت سالانہ بنیاد پر تقریباً 48 فیصد، ڈیزل 54.21 فیصد، ایل پی جی 60.42 فیصد اور گندم کے آٹے کی قیمت 33.27 فیصد زیادہ بتائی گئی۔ توانائی کی لاگت میں اضافہ نقل و حمل اور پیداواری اخراجات کے ذریعے دوسری اشیا کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، تاہم ہر شے کی قیمت میں تبدیلی کے عوامل الگ ہوسکتے ہیں۔

ہفتہ وار اشاریہ ملک میں منتخب ضروری اشیا کی قیمتوں میں مختصر مدت کی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے اور اسے عمومی مہنگائی کے مکمل صارف قیمت اشاریے کا متبادل نہیں سمجھا جاتا۔ اس کے باوجود SPI میں مسلسل اضافہ کم اور متوسط آمدنی والے گھرانوں کے بجٹ پر فوری دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ اس میں روزمرہ استعمال کی متعدد ضروری اشیا شامل ہوتی ہیں۔

ڈان کے مطابق اشاریہ مسلسل 73ویں ہفتے بلند ہوا، جس سے صارفین پر قیمتوں کا دباؤ برقرار رہنے کا اشارہ ملتا ہے۔ سبزیوں سمیت خوراک کی بعض اشیا کے نرخ بھی نقل و حمل اور دیگر لاگتوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ تیزی نے سفر اور مال برداری کے اخراجات کو بھی بڑھایا ہے۔

مہنگائی کے اس مرحلے میں توانائی کی قیمتیں پالیسی سازوں کے لیے اہم متغیر ہیں، کیونکہ ایندھن کی قیمت میں تبدیلی براہ راست ٹرانسپورٹ اور بالواسطہ طور پر زرعی، صنعتی اور تجارتی لاگت کو متاثر کرتی ہے۔ تاہم آئندہ ہفتوں میں SPI کی سمت عالمی تیل کی قیمتوں، مقامی پٹرولیم نرخوں، خوراک کی رسد، موسمی عوامل اور حکومتی اقدامات سمیت متعدد عوامل پر منحصر رہے گی۔ تازہ ہفتہ وار اعدادوشمار موجودہ قیمتوں کی صورتحال کی تصویر پیش کرتے ہیں، مستقبل کی مہنگائی کی حتمی پیش گوئی نہیں۔