اسلام آباد: پاکستان بیورو آف شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 17 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمت اشاریہ، یعنی ایس پی آئی، مجموعی صارف گروپ کے لیے 0.49 فیصد بڑھ گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اشاریہ گزشتہ ہفتے کے 364.26 پوائنٹس سے بڑھ کر 366.05 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جبکہ سالانہ بنیاد پر اضافہ 10.64 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
ایس پی آئی ملک کے 17 شہری مراکز میں 51 بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا بنیادی سال 2015-16 ہے۔ ہفتہ وار اعداد و شمار گھرانوں کو درپیش فوری قیمت دباؤ کی تصویر پیش کرتے ہیں، خصوصاً خوراک، ایندھن اور روزمرہ استعمال کی دوسری اشیا میں ہونے والی تبدیلیوں کی۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے کم خرچ والے گروپ، جس کی ماہانہ حد 17 ہزار 732 روپے تک ہے، کے لیے ہفتہ وار اشاریہ 0.14 فیصد کم ہوا۔ 17 ہزار 733 سے 22 ہزار 888 روپے والے گروپ میں 0.01 فیصد، 22 ہزار 889 سے 29 ہزار 517 روپے والے گروپ میں 0.14 فیصد اور 29 ہزار 518 سے 44 ہزار 175 روپے والے گروپ میں 0.30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 44 ہزار 175 روپے سے زیادہ خرچ والے گروپ میں ہفتہ وار اضافہ 0.77 فیصد رہا۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے دوران قیمتوں پر دباؤ میں ایندھن کا نمایاں کردار رہا۔ ڈیزل کی قیمت میں 7.29 فیصد، پیٹرول میں 6.40 فیصد اور ایل پی جی میں 3.26 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا۔ ان تبدیلیوں کا اثر نہ صرف براہ راست صارفین پر پڑتا ہے بلکہ نقل و حمل اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات کے ذریعے دیگر قیمتوں تک بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
ہفتہ وار ایس پی آئی طویل مدتی مہنگائی کے دوسرے پیمانوں کا متبادل نہیں، تاہم یہ قلیل مدت میں بنیادی اشیا کی قیمتوں میں تیز تبدیلیوں کو نمایاں کرتا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل اور عالمی توانائی منڈی کی غیر یقینی صورت حال پاکستان کے صارفین اور کاروبار دونوں کے اخراجات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
بیورو آف شماریات کی آئندہ ہفتہ وار ریلیز سے یہ واضح ہو گا کہ ایندھن کی حالیہ قیمتوں اور حکومتی ریلیف اقدامات کے بعد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا رجحان کس سمت جاتا ہے۔
