کراچی: پاکستان میں گاڑیوں کے لیے بینک فنانسنگ مسلسل 21ویں مہینے بڑھی اور اگست 2026 کے اختتام پر واجب الادا آٹو قرضوں کا حجم 393.3 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں یہ حجم 386.3 ارب روپے تھا، یوں ایک ماہ کے دوران بھی آٹو فنانسنگ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب گاڑیوں کی فروخت میں ماہانہ بنیاد پر کمی دیکھی گئی۔ اگست میں کاروں، لائٹ کمرشل گاڑیوں، پک اپس اور وینز کی مجموعی فروخت 15 ہزار 558 یونٹس رہی۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ تھی، تاہم جولائی کے مقابلے میں 21 فیصد کم رہی۔ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں مجموعی فروخت 35 ہزار 376 یونٹس تک پہنچی، جو سالانہ بنیاد پر 41 فیصد اضافہ ہے۔
آٹو صنعت سے وابستہ حلقوں نے نئی آٹو پالیسی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کو مارکیٹ کے لیے اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔ پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حکومت سے نئی پالیسی کے جلد اعلان کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صنعت اور صارفین کے لیے مستقبل کے مالی اور ریگولیٹری قواعد واضح ہو سکیں۔
مقامی صنعت کی جانب سے آٹو فنانسنگ کی موجودہ حد اور قرض کی مدت پر بھی بحث جاری ہے۔ انڈس موٹر کمپنی کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں فنانسنگ کی حد اور ادائیگی کی مدت خطے کے بعض دیگر بازاروں کے مقابلے میں محدود ہے۔ کمپنی نے زیادہ سے زیادہ فنانسنگ حد اور مدت میں اضافے کو گاڑی خریدنے کی استطاعت بہتر بنانے کے ممکنہ طریقوں میں شمار کیا، تاہم ایسی کسی تبدیلی کا فیصلہ متعلقہ ریگولیٹرز اور بینکنگ پالیسی کے تحت ہوگا۔
اسی دوران پاکستان آٹو شو 2026 میں بی وائی ڈی اور میگا موٹر کمپنی نے سی لائن 6 ماڈل پیش کیا ہے، جسے کمپنی نے پاکستان میں اپنی پہلی مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑی بنانے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے۔ پیداوار 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں شروع کرنے کا ہدف بتایا گیا ہے۔ آٹو قرضوں میں مسلسل اضافہ اور فروخت کے ماہانہ اتار چڑھاؤ سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارف طلب، فنانسنگ شرائط اور نئی پالیسی کے اعلانات آنے والے مہینوں میں صنعت کے رجحان پر اثر انداز ہوں گے۔
