کراچی: پاکستان سے غیر ملکی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے منافع اور ڈیویڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں سالانہ بنیاد پر 13.4 فیصد کم ہوگئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی اور اگست کے دوران مجموعی طور پر 557.6 ملین ڈالر بیرون ملک منتقل کیے گئے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 643.7 ملین ڈالر تھی۔
گزشتہ مکمل مالی سال 2025-26 میں منافع اور ڈیویڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی 3.87 فیصد بڑھ کر تقریباً 2.3 ارب ڈالر تک پہنچی تھی۔ تازہ دو ماہ کے اعدادوشمار میں کمی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پہلے ہی دباؤ کا شکار رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 1.64 ارب ڈالر رہی، جو ایک سال پہلے کے 2.48 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 34 فیصد کم تھی۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق موجودہ کمی کو صرف زرمبادلہ کی ادائیگی کی رکاوٹ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر حالیہ عرصے میں بہتر ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یورو بانڈز سے تین ارب ڈالر کی آمد کے بعد مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر گزشتہ ہفتے 21.4 ارب ڈالر تک پہنچے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ منافع کی منتقلی میں کمی کمزور سرمایہ کاری کے سابقہ رجحان کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
ملک وار اعدادوشمار میں چین کو جولائی اور اگست کے دوران 161.2 ملین ڈالر منافع منتقل کیا گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 205.6 ملین ڈالر سے کم تھا۔ نیدرلینڈز کو ادائیگیاں 86.7 ملین ڈالر سے بڑھ کر 107 ملین ڈالر ہوگئیں، جبکہ برطانیہ کو منتقلی 147.5 ملین ڈالر سے کم ہو کر 103 ملین ڈالر رہی۔ متحدہ عرب امارات کو منافع کی منتقلی 45 ملین ڈالر سے کم ہو کر 19.2 ملین ڈالر رہ گئی۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے بہاؤ پر علاقائی سلامتی، عالمی توانائی منڈی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد سمیت متعدد عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے منافع کی منتقلی میں موجودہ کمی کو سرمایہ کاری کی مجموعی صحت کا واحد پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ آئندہ مہینوں میں نئی سرمایہ کاری کی آمد، زرمبادلہ ذخائر اور کاروباری ماحول کے اشارے یہ واضح کریں گے کہ یہ رجحان عارضی ہے یا مالی سال کے بڑے حصے تک برقرار رہتا ہے۔
