اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں جاری فیول ریلیف اسکیم کے ڈھانچے میں تبدیلی کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت زیادہ تعداد میں دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو اسکیم میں شامل کیا جائے گا اور رعایت کے استعمال کے طریقہ کار میں بھی نرمی کی گئی ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد رجسٹرڈ تمام موٹر سائیکلیں، رکشے اور چنگ چی رکشے اسکیم میں رجسٹریشن کے اہل ہوں گے۔
نئے انتظام کے تحت دو اور تین پہیوں والی اہل گاڑیوں کے صارفین ایک ہفتے میں 500 روپے تک کی رعایت حاصل کر سکیں گے اور اس رعایت کو کسی مخصوص لیٹر مقدار سے مشروط نہیں رکھا گیا۔ پہلے ہر ٹوکن کے ذریعے پانچ لیٹر ایندھن پر رعایت دی جاتی تھی، تاہم اب ٹوکن 500 روپے کی رعایت کا حق دے گا۔ ہر جاری ہونے والا ٹوکن سات دن تک قابل استعمال ہوگا۔
حکومتی تفصیلات کے مطابق ایک اہل شہری متعدد ٹوکن استعمال کرتے ہوئے ایک ماہ میں زیادہ سے زیادہ دو ہزار روپے تک رعایت حاصل کر سکے گا۔ اس تبدیلی کا مقصد ان صارفین کے لیے طریقہ کار کو نسبتاً لچکدار بنانا ہے جو موٹر سائیکل، رکشہ یا چنگ چی کو روزمرہ سفر یا آمدن کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ حکومت نے اسکیم کے ممکنہ مستفید افراد کی تعداد تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ بتائی ہے۔
فیول ریلیف پروگرام ایسے وقت میں جاری ہے جب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند سطح پر ہیں اور توانائی کی لاگت گھریلو بجٹ، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ حکومت نے حالیہ دنوں میں ایندھن کے استعمال اور اخراجات سے متعلق دیگر اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔
اسکیم میں توسیع کی منظوری انتظامی طور پر اہم ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا انحصار رجسٹریشن، ٹوکن کے اجرا، پٹرول پمپوں پر تصدیق اور رعایت کی بروقت فراہمی پر ہوگا۔ حکام کے مطابق نظرثانی شدہ قواعد کے تحت اہل گاڑیوں کی عمر کی حد بھی واضح کر دی گئی ہے تاکہ پرانی مگر زیر استعمال موٹر سائیکلیں اور تین پہیوں والی گاڑیاں بھی پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں۔
