نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہدایت کی ہے کہ ملک بھر کے تمام فعال فیول اسٹیشنز کو وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے نظام میں شامل کیا جائے، جبکہ مستقل طور پر بند اور صرف ڈیزل فروخت کرنے والے اسٹیشنز کو فہرست سے نکالا جائے۔ یہ ہدایات 19 ستمبر کو نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی کے اجلاس میں جاری کی گئیں۔

ڈان کے مطابق اجلاس میں اسکیم کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا اور حکام نے بتایا کہ ملک کے بیشتر فیول اسٹیشنز نظام پر فعال ہو چکے ہیں اور شہری فیول ٹوکن استعمال کر رہے ہیں۔ رجسٹریشن کے لیے 9771 پر ایس ایم ایس کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

کمیٹی نے ایسے علاقوں کے لیے جہاں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی دستیاب نہیں، فیول ٹوکن کو ایس ایم ایس کے ذریعے ریڈیم کرنے کی منظوری دی۔ صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے کہا گیا ہے کہ ایسے فیول اسٹیشنز کی فہرستیں فراہم کریں تاکہ انہیں بھی بلا تاخیر نظام میں شامل کیا جا سکے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ تین دن میں موصول ہونے والے تمام ادائیگی دعوے مکمل طور پر نمٹا دیے گئے اور روزانہ موصول ہونے والے دعووں کو اسی دن پراسیس کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے صوبائی انتظامیہ اور اسٹیٹ بینک کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریلیف مستحق صارفین تک بلا رکاوٹ پہنچنا چاہیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو موٹر سائیکلوں، آٹو رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف کی اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں اس کے دائرہ کار میں 20 سال تک پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی رکشوں کو بھی شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔ اسکیم کے ابتدائی نفاذ کے دوران بعض پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل نظام نہ ہونے کی شکایات سامنے آئی تھیں۔

نئی ہدایات کا مقصد اسی عمل درآمد کے خلا کو کم کرنا ہے، خصوصاً ان مقامات پر جہاں انٹرنیٹ دستیاب نہیں۔ تاہم اسکیم کی عملی رسائی کا انحصار فعال اسٹیشنز کی مکمل شمولیت، ٹوکن کی درست تصدیق اور ادائیگی دعووں کی بروقت ادائیگی پر رہے گا۔