کراچی: پاکستان میں آٹو فنانسنگ کا حجم مسلسل 21ویں ماہ بڑھا ہے، جو گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینک قرضوں کی طلب میں برقرار رہنے والے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار پر مبنی ڈان کی رپورٹ کے مطابق اگست 2026 میں بھی آٹو قرضوں میں اضافہ جاری رہا، جبکہ اسی مہینے کاروں، لائٹ کمرشل گاڑیوں، پک اپس اور وینز کی مجموعی فروخت 15 ہزار 558 یونٹس ریکارڈ کی گئی۔

آٹو فنانسنگ میں مسلسل اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی گاڑیوں کی مارکیٹ شرح سود، درآمدی لاگت، مقامی اسمبلی، صارفین کی قوت خرید اور بینکوں کی قرض پالیسیوں سے متاثر ہوتی رہی ہے۔ قرضوں کے حجم میں اضافہ لازماً تمام اقسام کی گاڑیوں یا تمام صارف طبقات میں یکساں بہتری کی علامت نہیں، تاہم یہ بینک فنانسنگ کے ذریعے گاڑی خریدنے کی سرگرمی میں تسلسل ظاہر کرتا ہے۔

گاڑیوں کی فروخت کا 15,558 یونٹس کا عدد کاروں کے ساتھ لائٹ کمرشل گاڑیوں، پک اپس اور وینز کو شامل کرتا ہے۔ مارکیٹ کی مکمل تصویر کے لیے موٹر سائیکل، ٹرک، بس اور دیگر زمروں کے الگ اعدادوشمار بھی اہم ہوتے ہیں، اس لیے اس فروخت کو پورے آٹو سیکٹر کی مجموعی فروخت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

آٹو قرضوں میں تبدیلی عام طور پر مالیاتی حالات سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ شرح سود کم ہونے سے ماہانہ اقساط نسبتاً قابل برداشت ہوسکتی ہیں، جبکہ بلند شرح سود، گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ اور ایندھن کے اخراجات صارفین کی طلب کو محدود کرسکتے ہیں۔ اسی طرح بینکوں کی فنانسنگ شرائط، ڈاؤن پیمنٹ اور قرض کی مدت بھی خریداری کے فیصلوں پر اثر ڈالتی ہے۔

پاکستان کی آٹو صنعت مقامی مینوفیکچرنگ، اسمبلنگ، پرزہ سازی اور روزگار کے بڑے سلسلے سے منسلک ہے، اس لیے گاڑیوں کی فروخت اور فنانسنگ کے رجحانات کو صنعتی سرگرمی کے ایک اہم اشارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم کسی ایک ماہ کی فروخت یا قرضوں میں اضافے سے طویل مدتی بحالی کا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ آئندہ رجحان کا انحصار شرح سود، روپے کی قدر، گاڑیوں کی قیمتوں، ٹیکس پالیسی، مقامی پیداوار اور صارفین کی حقیقی آمدنی سمیت متعدد عوامل پر ہوگا۔