اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں محدود کمی کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 1.65 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 88 پیسے کمی کر دی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق ہفتہ 19 ستمبر سے ہوگا اور یہ 21 ستمبر تک نافذ رہیں گی۔
نظرثانی کے بعد پیٹرول کی نئی خوردہ قیمت 389.14 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 424.04 روپے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ یہ تبدیلی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور خام تیل و تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی نے پاکستان کی مقامی قیمتوں پر مسلسل دباؤ ڈال رکھا ہے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر کے قریب ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی وصولی جاری رکھے ہوئے ہے۔ قیمتوں میں حالیہ ردوبدل کے باوجود یہ محصولات صارفین کی ادا کردہ حتمی قیمت کا ایک اہم حصہ ہیں۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق حالیہ ہفتوں میں قیمتوں کے تعین پر بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں کا نمایاں اثر رہا ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی نرخ، فریٹ، شرح مبادلہ اور حکومتی محصولات مقامی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نئی قیمتوں کے لیے مختصر اطلاقی مدت بھی موجودہ غیر معمولی عالمی حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ حکومت نے اس سے قبل توانائی کی بڑھتی لاگت کے تناظر میں مختلف ریلیف اور بچت اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ موجودہ کمی سے موٹر سائیکل، کار اور تجارتی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے صارفین کو معمولی ریلیف ملے گا، تاہم پیٹرول اور ڈیزل کی مجموعی قیمتیں بدستور بلند سطح پر ہیں۔
پیٹرول کی قیمت میں تبدیلی براہ راست نجی ٹرانسپورٹ اور چھوٹے کاروباروں کی لاگت پر اثر انداز ہوتی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل زرعی مشینری، مال برداری اور پبلک ٹرانسپورٹ میں وسیع استعمال کے باعث اشیائے ضروریہ کی ترسیل کی لاگت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ آئندہ نظرثانی میں عالمی منڈی اور درآمدی لاگت کی سمت مقامی نرخوں کے لیے اہم رہے گی۔
