اسلام آباد: وفاقی سیکریٹری تجارت جواد پال نے کہا ہے کہ پاکستان نے یورپی یونین کے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس، یعنی جی ایس پی پلس، کے تحت پانچواں جائزہ مکمل کر لیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی یورپی منڈی تک ترجیحی تجارتی رسائی کے لیے اہم ہے، کیونکہ جی ایس پی پلس کے تحت متعدد پاکستانی مصنوعات کو یورپی یونین میں کم یا صفر درآمدی ڈیوٹی کے ساتھ رسائی حاصل ہوتی ہے۔
سیکریٹری تجارت نے بتایا کہ موجودہ انتظام کے تحت جائزے کا عمل مکمل ہو گیا ہے، تاہم یورپی یونین کے آئندہ ترجیحی تجارتی نظام میں شمولیت خودکار نہیں ہوگی۔ پاکستان کو نئے فریم ورک کے لیے باقاعدہ درخواست دینا ہوگی اور حکام کے مطابق یہ عمل دسمبر 2028 تک مکمل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس مرحلے میں یورپی یونین کی مقررہ شرائط، بین الاقوامی کنونشنز اور نگرانی کے تقاضوں پر عمل درآمد دوبارہ جانچا جائے گا۔
جی ایس پی پلس پاکستان کی برآمدی معیشت، خصوصاً ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت، کے لیے طویل عرصے سے اہم تجارتی سہولت رہی ہے۔ یورپی یونین پاکستان کی بڑی برآمدی منڈیوں میں شامل ہے، اس لیے ترجیحی رسائی برقرار رہنے یا اس کی شرائط میں تبدیلی کا اثر برآمد کنندگان، صنعتی پیداوار، روزگار اور زرمبادلہ کی آمد پر پڑ سکتا ہے۔ پانچویں جائزے کی تکمیل موجودہ نگرانی کے مرحلے میں ایک پیش رفت ہے، لیکن اسے مستقبل کی ترجیحی حیثیت کی حتمی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔
جی ایس پی پلس کا نظام صرف تجارتی اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ انسانی حقوق، محنت کے حقوق، ماحولیات، گڈ گورننس اور دیگر بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متعلق کنونشنز پر عمل درآمد بھی اس کا حصہ ہے۔ یورپی ادارے ان شعبوں میں قانونی اور عملی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کی حکومت مختلف وزارتوں اور صوبائی اداروں کے ذریعے ان ذمہ داریوں سے متعلق رپورٹنگ اور عمل درآمد کو مربوط کرتی ہے۔
تازہ اعلان کے بعد وزارت تجارت اور دیگر متعلقہ اداروں کے لیے اگلا اہم مرحلہ نئے یورپی تجارتی فریم ورک کی شرائط کے مطابق تیاری کرنا ہوگا۔ کاروباری برادری کے لیے بھی یہ معاملہ اہم ہے کیونکہ یورپی منڈی میں مسابقتی برتری کا ایک حصہ ترجیحی ٹیرف سے وابستہ ہے۔ آئندہ درخواست، یورپی یونین کی جانچ اور نئی اسکیم کے حتمی قواعد سامنے آنے پر پاکستان کی مستقبل کی جی ایس پی پلس حیثیت کے بارے میں زیادہ واضح تصویر بنے گی۔
