اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ بڑھاتے ہوئے 20 سال تک پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگچی رکشوں کو بھی پروگرام میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ متعلقہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیاں اسکیم کے لیے رجسٹریشن کرا سکیں گی۔
یہ فیصلہ ایسے صارفین کو سبسڈی کے نظام میں شامل کرنے کے لیے کیا گیا ہے جو نسبتاً پرانی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں اور پہلے اہلیت کی حدود کے باعث پروگرام سے باہر رہ سکتے تھے۔ حکومت نے فیول ریلیف اسکیم 13 ستمبر کو متعارف کرائی تھی، جس کے تحت مخصوص اہل صارفین کو پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے رعایت فراہم کی جا رہی ہے۔ اسکیم کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے پیدا ہونے والے مہنگائی کے دباؤ میں کم اور متوسط آمدنی والے گھرانوں کو ہدفی مدد دینا بتایا گیا ہے۔
سرکاری طریقہ کار کے مطابق موٹر سائیکل، رکشہ اور دیگر اہل دو و تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین ماہانہ زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف حاصل کر سکتے ہیں۔ 800 سی سی تک انجن والی اہل کاروں کے مالکان کے لیے یہی رعایت ماہانہ زیادہ سے زیادہ 30 لیٹر تک دستیاب ہے۔ یہ سہولت پاکستان بھر کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے اہل افراد تک بھی توسیع دی گئی ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر اسکیم میں رجسٹریشن کے لیے ایس ایم ایس سروس بھی مفت کر دی گئی ہے۔ صارفین 9771 پر مقررہ فارمیٹ کے مطابق اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا نمبر، صوبے کا ابتدائی حرف اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ بھیج کر رجسٹریشن کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔ درخواست کی منظوری اور سبسڈی کی فراہمی حکومتی ریکارڈ میں موجود اہلیت کی شرائط سے مشروط رہے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق ڈیلرز نے حکومت سے مذاکرات کے بعد ریلیف پیکیج پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ سبسڈی کی عملی ادائیگی، پمپوں کو رقم کی واپسی اور صارفین کی تصدیق کا نظام اسکیم کی کامیابی کے لیے اہم ہوگا، کیونکہ ڈیلرز نے اس سے قبل ری ایمبرسمنٹ کے طریقہ کار سے متعلق وضاحت طلب کی تھی۔
20 سال پرانی گاڑیوں کو شامل کرنے سے اسکیم کے ممکنہ مستفید افراد کی تعداد بڑھے گی، تاہم حکومت نے اس تازہ اعلان میں مجموعی اضافی مالی لاگت یا نئے اہل صارفین کی متوقع تعداد جاری نہیں کی۔
