اسلام آباد/کراچی: پاکستان کے سرکاری زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ذخائر 11 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ مرکزی بینک کے ذخائر کی ریکارڈ سطح ہے، جبکہ تجارتی بینکوں کے پاس 5.4 ارب ڈالر موجود تھے اور ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران تقریباً 3.061 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جو جون 2025 کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہے۔ مرکزی بینک نے اس اضافے کی بنیادی وجہ پاکستان کے یورو بانڈ سے حاصل ہونے والی رقم کی وصولی کو قرار دیا۔ اس پیش رفت نے بیرونی ادائیگیوں کے لیے دستیاب سرکاری بفر میں اضافہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 18 ستمبر کو جاری بیان میں اس سطح کو معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، معاشی ٹیم اور بیرون ملک پاکستانیوں کو مبارکباد دی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق حکومت بہتر ترسیلات زر، خدمات کی برآمدات، کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری اور مالی نظم کو ذخائر میں اضافے کے اہم عوامل سمجھتی ہے۔ یہ حکومت کا جائزہ ہے؛ مجموعی معاشی کارکردگی پر مختلف ماہرین کی آرا میں فرق ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی 26.8 ارب ڈالر کے ذخائر ستمبر 2021 کے بعد بلند ترین سطحوں میں شامل ہیں۔ مارکیٹ تجزیے میں کہا گیا کہ اس سطح سے پاکستان کا درآمدی کور تقریباً تین ماہ سے اوپر چلا گیا ہے، جو بیرونی شعبے کے استحکام کے لیے ایک اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم درآمدی کور کا تخمینہ درآمدات کے مختلف اوسط ادوار اور مستقبل کی ادائیگیوں کے حساب سے تبدیل ہو سکتا ہے۔
زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ روپے کی قدر، درآمدی ادائیگیوں، بیرونی قرضوں کی سروسنگ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے، لیکن مستقبل کی سمت عالمی تیل کی قیمتوں، برآمدات، ترسیلات زر، قرضوں کی ادائیگیوں اور نئی بیرونی فنانسنگ پر منحصر رہے گی۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی قیمتیں پاکستان کے بیرونی کھاتے کے لیے ایک نمایاں خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
حکومت نے اس پیش رفت کو بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں میں واپسی اور معاشی اعتماد کی بحالی سے جوڑا ہے، جبکہ ذخائر کی پائیداری کا بہتر اندازہ آنے والے مہینوں میں بیرونی رقوم کی آمد، تجارتی خسارے اور قرض ادائیگیوں کے توازن سے ہوگا۔
