پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو تیزی کا رجحان برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,841 پوائنٹس، یعنی 1.09 فیصد اضافے کے ساتھ 170,885 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سیشن کے دوران انڈیکس 169,400 سے 171,037 پوائنٹس کے درمیان رہا، جبکہ ریڈی مارکیٹ میں مجموعی کاروباری حجم تقریباً 575 ملین شیئرز ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 میں شامل حصص کی مالیت تقریباً 13.2 ارب روپے رہی۔ آل شیئر انڈیکس 1,053 پوائنٹس بڑھ کر 103,297، کے ایس ای 30 انڈیکس 585 پوائنٹس اضافے سے 50,883 جبکہ کے ایم آئی 30 انڈیکس 2,523 پوائنٹس بڑھ کر 243,139 پر پہنچ گیا۔ مارکیٹ میں خریداری کا زور خاص طور پر بینکنگ، سیمنٹ، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار اور پاور سیکٹر میں دیکھا گیا۔
بروکریج کے اعداد کے مطابق بینکنگ سیکٹر نے انڈیکس میں سب سے زیادہ 803 پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔ سیمنٹ نے 266، فرٹیلائزر نے 257، ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن نے 129 اور پاور سیکٹر نے 80 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ نمایاں مثبت اثر ڈالنے والے حصص میں فوجی فرٹیلائزر، یونائیٹڈ بینک، میزان بینک، لکی سیمنٹ اور حبیب بینک شامل رہے۔ دوسری جانب چند کمپنیوں کے حصص نے انڈیکس کے اضافے کو محدود بھی کیا۔
کاروباری حجم میں کم قیمت والے بعض حصص نمایاں رہے، جبکہ شعبہ جاتی بنیاد پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں زیادہ لین دین ریکارڈ ہوا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں نے تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی کو پاکستان کے بیرونی کھاتے اور سرمایہ کاروں کے جذبات کے لیے مثبت عنصر قرار دیا، تاہم یہ تجزیاتی رائے ہے اور مستقبل کی مارکیٹ سمت کی ضمانت نہیں۔
جمعرات کو بھی کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,021 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد جمعہ کی تیزی نے انڈیکس کو دوبارہ 170 ہزار پوائنٹس سے اوپر پہنچا دیا۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال، عالمی خام تیل کی قیمتیں، شرح سود اور ملکی معاشی اشاریے آنے والے سیشنز میں سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہیں گے۔ اسٹاک مارکیٹ میں روزانہ کی قیمتیں تیزی سے بدل سکتی ہیں، اس لیے رپورٹ میں دیے گئے اعداد 18 ستمبر 2026 کے اختتامی سیشن سے متعلق ہیں۔
