اسلام آباد: وفاقی وزارت بحری امور نے بلوچستان کے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کی جدید کاری کے 12 ارب روپے کے منصوبے پر عملی کام شروع ہونے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری کے مطابق منصوبے کا مقصد روایتی جہاز توڑنے کی سرگرمیوں کو زیادہ محفوظ، ماحول دوست اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ شپ ری سائیکلنگ صنعت میں تبدیل کرنا ہے۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری بیان کے مطابق اہم سہولتوں پر جسمانی تعمیر شروع ہو چکی ہے۔ ان میں 30 بستروں کا ہسپتال، مزدور کالونی، اسکول اور شمسی توانائی کا انفراسٹرکچر شامل ہے۔ منصوبے میں سماجی سہولتوں کے ساتھ صنعتی اور ماحولیاتی انفراسٹرکچر بھی رکھا گیا ہے تاکہ یارڈ میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت اور آس پاس کے ماحول سے متعلق دیرینہ مسائل کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔
منصوبے کے دائرہ کار میں تقریباً 32 کلومیٹر داخلی سڑکیں، ایک عوامی پارک، خطرناک اور صنعتی فضلے کے ٹریٹمنٹ سسٹمز، فائر اینڈ ریسکیو اسٹیشنز اور پانی کی صفائی کے لیے مخصوص سہولتیں شامل ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات گڈانی کو محفوظ اور ماحول دوست جہاز ری سائیکلنگ سے متعلق ہانگ کانگ انٹرنیشنل کنونشن کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
پروجیکٹ ڈائریکٹر سعید احمد عمرانی نے اسٹیئرنگ کمیٹی کو بتایا کہ منصوبہ فعال خریداری اور تعمیر کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں اس منصوبے کے لیے 780 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ سالانہ مختص رقم پورے 12 ارب روپے کے منصوبے کی مجموعی لاگت سے الگ ہے اور مرحلہ وار عمل درآمد کے لیے استعمال ہوگی۔
گڈانی پاکستان کی اسٹیل اسکریپ سپلائی چین میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جہاں پرانے بحری جہازوں کو توڑ کر قابل استعمال دھات اور دیگر مواد حاصل کیا جاتا ہے۔ تاہم جہاز توڑنے کی صنعت میں آگ، دھماکوں، خطرناک مواد، تیل اور کیمیائی باقیات جیسے خطرات کے باعث مزدوروں کی حفاظت اور ماحولیاتی انتظام بنیادی چیلنج رہے ہیں۔ نئی سہولتوں کا اعلان انہی خطرات کو کم کرنے کے وسیع منصوبے سے جوڑا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے منصوبہ حکام کو تعمیراتی رفتار برقرار رکھنے اور نئی سہولتوں کے لیے سخت عملی معیار یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ سرکاری بیان میں مکمل منصوبے کی حتمی تکمیل کی تاریخ نہیں بتائی گئی، اس لیے موجودہ پیش رفت کو تعمیر و خریداری کے آغاز اور بنیادی سہولتوں پر کام کے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ منصوبے کے نتائج کا حتمی جائزہ تعمیر مکمل ہونے، حفاظتی نظام فعال ہونے اور بین الاقوامی معیار سے مطابقت کی عملی تصدیق کے بعد ممکن ہوگا۔




