غزہ: غزہ کی پٹی کے دو مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں چار سالہ بچے سمیت دو فلسطینی جاں بحق اور سات شہری زخمی ہوئے ہیں۔ ایکسپریس اردو نے غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ فلسطینی وزارتِ صحت نے اتوار کو ہونے والی ان کارروائیوں اور ہلاکتوں کی اطلاع دی۔ یہ اعداد و شمار فلسطینی طبی حکام سے منسوب ہیں؛ اسرائیلی فوج نے فوری طور پر ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی بلکہ کہا کہ وہ دونوں واقعات سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کے وسطی علاقے الزوایدہ میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی شہریوں نے بتایا کہ کارروائی سے پہلے اسرائیلی فوج کی جانب سے عمارت کے مالکان کو علاقہ چھوڑنے کی تنبیہ کی گئی تھی۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے عہدیداروں کے مطابق بمباری کے باعث عمارت کا ملبہ کئی میٹر دور تک پھیلا اور چھ افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں چار سالہ محمد عبدالسلام طحہ جانبر نہ ہو سکا۔
قریب رہنے والے ایک بے گھر فلسطینی شہری ابو احمد نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ انہیں زمینی صورت حال میں جنگ بندی دکھائی نہیں دے رہی اور وہ تنازع کا حل اور پُرامن زندگی چاہتے ہیں۔ یہ بیان ایک عینی مقامی شہری کی رائے کے طور پر رپورٹ ہوا ہے، اسے کسی سرکاری مذاکراتی موقف یا جنگ بندی کے قانونی تعین کے مترادف نہیں سمجھا جا رہا۔
فلسطینی حکام کے مطابق دوسری فضائی کارروائی نصیرات مہاجر کیمپ کے قریب ہوئی۔ دستیاب رپورٹ نے دونوں مقامات کے مجموعی نتیجے میں دو اموات اور سات زخمیوں کا ذکر کیا، تاہم دوسرے مقام کے ہر متاثرہ فرد کی شناخت یا طبی حالت الگ سے فراہم نہیں کی۔ اسی وجہ سے اس خبر میں صرف وہی مجموعی تعداد شامل کی گئی ہے جو چیک شدہ رپورٹ اور اس میں درج وزارتِ صحت کے بیان میں موجود ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں ایک ہزار 280 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ یہ مجموعی عدد بھی چیک شدہ رپورٹ سے منسوب ہے اور اسے اردو ہیڈ لائنز کی آزادانہ گنتی کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔ موجودہ دونوں کارروائیوں کے بارے میں اسرائیلی فوج کا حتمی جواب، متاثرین کی مکمل فہرست یا کسی بین الاقوامی ادارے کی الگ تصدیق سامنے آنے پر اسے نئی پیش رفت کے طور پر شامل کیا جائے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




