منامہ: انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک نے بحرین کے ولی عہد سلمان بن حمد آل خلیفہ سے ملاقات کی ہے جس میں دونوں ملکوں کے تعاون، علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ بحرین نیوز ایجنسی کے سرکاری بیان پر مبنی ہے۔ ملاقات بحرین کے سرکاری شاہی محل رفّاع پیلس میں ہوئی۔
بحرینی رپورٹ کے مطابق ولی عہد، جو بحرین کی مسلح افواج کے کمانڈر بھی ہیں، نے پاکستان اور بحرین کے تعلقات کی گہرائی کا ذکر کیا اور کہا کہ مشترکہ مقاصد اور مسلسل رابطوں سے یہ تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں مشترکہ ہم آہنگی بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دونوں ملکوں کی ترقی اور خوش حالی میں مدد ملے۔ بیان میں زیرِ بحث ہر شعبے یا کسی نئے معاہدے کی تفصیلی فہرست جاری نہیں کی گئی۔
ملاقات میں تازہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات بھی زیرِ بحث آئے۔ بحرینی ولی عہد نے علاقائی سلامتی اور استحکام کی بنیادیں مضبوط کرنے میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے دوطرفہ تعلقات مزید بہتر بنانے کی بحرینی قیادت کی خواہش پر شکریہ ادا کیا اور بحرین کے لیے ترقی و خوش حالی کی نیک تمنائیں ظاہر کیں۔ یہ تمام باتیں بحرین کی سرکاری ایجنسی کے بیان سے منسوب ہیں۔
بحرین کے وزیراعظم کے دیوان کے وزیر، وزیر خزانہ، نائب وزیر داخلہ، نائب قومی سلامتی مشیر اور سپریم ڈیفنس کونسل کے نائب سیکریٹری جنرل بھی ملاقات میں شریک تھے۔ اس سطح کی شرکت سے سکیورٹی کے ساتھ اقتصادی اور ادارہ جاتی رابطوں کی اہمیت بھی ظاہر ہوتی ہے، تاہم رپورٹ میں کسی باقاعدہ مذاکراتی دستاویز، ٹائم لائن یا مالی وعدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
تقریباً دو ہفتے قبل بحرین کے وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک رابطے میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان کو مبارک باد دی اور پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ جون میں بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر نے راولپنڈی میں پاکستان کی عسکری قیادت سے ملاقات کی تھی۔ موجودہ ملاقات انہی جاری تعلقات کی نئی پیش رفت ہے؛ کسی عملی معاہدے یا مشترکہ منصوبے کا دعویٰ صرف بعد کے مصدقہ سرکاری اعلامیے کی بنیاد پر کیا جا سکے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




