امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا درخواستوں کی کارروائی معطل کرنے والی پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ ڈان نے رائٹرز کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی ڈسٹرکٹ جج جینیٹ ورگاس نے فیصلہ دیا کہ محکمہ خارجہ نے ویزا عمل روکنے کے لیے اپنے قانونی اختیار سے تجاوز کیا اور یہ پالیسی قانون کے مطابق نہیں تھی۔

پالیسی کے تحت فہرست میں شامل ممالک کے درخواست گزاروں کے امیگرنٹ ویزا کیسز کی کارروائی معطل تھی۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا، اس لیے عدالتی فیصلہ پاکستانی درخواست گزاروں کے لیے براہ راست اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر زیر التوا درخواست منظور ہو گئی یا ویزا خودکار طور پر جاری ہوگا۔ ہر درخواست معمول کے قانونی، دستاویزی اور اہلیتی جائزے سے گزرے گی۔

جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وزیر خارجہ کو قانون کی طرف سے دیے گئے اختیار کی حدود کا احترام کرنا ہوگا۔ ڈان کی براہ راست چیک کی گئی رپورٹ کے مطابق عدالت نے اس وسیع معطلی کو نافذ رکھنے کی بنیاد مسترد کردی۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے فوری تفصیلی ردعمل رپورٹ میں شامل نہیں تھا، اس لیے انتظامیہ اپیل کرے گی یا نئی ہدایات جاری کرے گی، یہ ابھی معلوم نہیں۔

یہ فیصلہ امیگرنٹ ویزا سے متعلق ہے، سیاحتی، تعلیمی یا دیگر نان امیگرنٹ ویزا کی ہر قسم کے بارے میں عمومی حکم نہیں۔ درخواست گزاروں کو سفارت خانے، نیشنل ویزا سینٹر اور سرکاری امریکی ویزا ویب سائٹ کی تازہ ہدایات دیکھنی چاہییں۔ سوشل میڈیا پر فوری انٹرویو یا منظوری کی ضمانت کے دعوے عدالتی فیصلے سے ثابت نہیں ہوتے۔

اگلا قابل جانچ مرحلہ محکمہ خارجہ کی عملی ہدایات، متاثرہ کیسز کی دوبارہ کارروائی اور ممکنہ اپیل ہے۔ اردو ہیڈ لائنز کسی باضابطہ امریکی نوٹس یا عدالتی حکم میں تبدیلی آنے پر اسی ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔ موجودہ خبر عدالت کے پالیسی ختم کرنے کے فیصلے، 75 ممالک اور پاکستان کی شمولیت تک محدود ہے؛ انفرادی ویزا نتیجے کا دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک