تہران: ایرانی حکام نے حکومت مخالف مظاہروں سے متعلق مقدمے میں مجید عدینہ نامی شخص کو پھانسی دے دی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق ایرانی عدلیہ نے الزام عائد کیا کہ عدینہ نے جنوری کے مظاہروں کے دوران امریکا اور اسرائیل سے منسلک مخالف گروہوں کی مدد کی اور حکومت مخالف سرگرمیوں میں کردار ادا کیا۔

عدلیہ کے بیان کے مطابق ملزم پر جان بوجھ کر آتش زنی، داخلی سلامتی کے خلاف جرائم کی نیت سے اجتماع اور سازش، اور مخالف گروہوں کے حق میں عملی کارروائی کے الزامات تھے۔ عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن سے منسوب معلومات میں کہا گیا کہ کرج کی انقلابی عدالت نے دستاویزات، شواہد اور ملزم کے بیانات کی بنیاد پر سزائے موت سنائی اور جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔

یہ الزامات اور شواہد کی تشریح ایرانی حکام اور عدالت سے منسوب ہیں۔ ایکسپریس کی رپورٹ میں مجید عدینہ کے وکیل، خاندان، کسی آزاد مبصر یا مقدمے کی مکمل عدالتی دستاویزات کا مؤقف شامل نہیں۔ اس لیے خبر میں الزام، عدالتی فیصلہ اور پھانسی کے عمل کو الگ رکھا گیا ہے: پھانسی کی اطلاع عدلیہ نے دی، جبکہ امریکا یا اسرائیل کے لیے کام کرنے کے دعوے حکام کے الزامات ہیں جن کی آزادانہ توثیق رپورٹ میں موجود نہیں۔

خبر کے مطابق ایران میں حکومت مخالف احتجاج کے بعد مظاہرین کے خلاف کارروائیاں جاری رہی ہیں، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ماضی میں احتجاجی مقدمات میں سزائے موت پر تشویش ظاہر کرتی رہی ہیں۔ موجودہ رپورٹ کسی مخصوص تنظیم کا تازہ تفصیلی بیان یا مقدمے کے منصفانہ ٹرائل پر الگ فیصلہ فراہم نہیں کرتی، اس لیے اس عمومی پس منظر سے اس کیس کے غیرمذکور قانونی حقائق اخذ نہیں کیے جا رہے۔

یہ حساس خبر غیرگرافک انداز میں صرف عدلیہ کی اطلاع، عائد الزامات اور دستیاب تصدیقی حدود بیان کرتی ہے۔ آئندہ اگر مقدمے کی مکمل عدالتی دستاویزات، وکیل یا خاندان کا مؤقف، یا آزاد حقوقی جائزہ سامنے آتا ہے تو وہ اس خبر کی مادی اپڈیٹ ہوگا۔ فی الحال کسی غیرمذکور اعتراف، جاسوسی رابطے یا ثبوت کی نوعیت کا اضافہ درست نہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک