تہران: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے باوجود ایران نے حالیہ عرصے میں اربوں ڈالر کمائے اور اپنا تیل فروخت کیا۔ ایکسپریس نیوز کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ایک بیان میں ایران کی اقتصادی مزاحمت اور تیل کی برآمدات سے متعلق متعدد اعداد پیش کیے۔
محسن رضائی کے مطابق ایران نے گزشتہ ایک سے دو ماہ کے دوران تقریباً سات کروڑ بیرل تیل فروخت کیا۔ انہوں نے یہ غیر معمولی دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی تیل روزانہ امریکی جہازوں تک فروخت ہو رہا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں خریداروں، جہازوں، قیمت، ادائیگی کے طریقے یا آزاد تجارتی دستاویزات کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ان بیانات کو ایرانی عہدیدار کا دعویٰ سمجھا جانا چاہیے، آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تجارتی نتیجہ نہیں۔
رضائی نے دوسرے ممالک کو خبردار کیا کہ وہ امریکا کی اقتصادی جنگ کا حصہ نہ بنیں۔ ان کے بقول ایران پہلے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اگر مخالف فریق تعاون نہ کرے تو ایران اس کے مفادات کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ یہ سخت سیاسی و سکیورٹی زبان ان سے منسوب بیان ہے؛ رپورٹ میں کسی فوری حملے، مخصوص ہدف یا جاری فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کے تحت ہے اور اس کی تیل کی فروخت، بینکاری اور بین الاقوامی ادائیگیوں پر متعدد پابندیاں اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایسے ماحول میں برآمدی مقدار اور آمدن کے اعداد مختلف سرکاری بیانات، جہاز رانی کے تخمینوں اور آزاد مارکیٹ تجزیوں میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ موجودہ خبر صرف محسن رضائی کے بیان کی رپورٹنگ کرتی ہے اور اس میں کسی بین الاقوامی ادارے یا آزاد تجارتی ڈیٹا سے موازنہ موجود نہیں۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ سیاسی عہدیدار کے دعوے، تصدیق شدہ برآمدی ریکارڈ اور پابندیوں کے حقیقی معاشی اثرات الگ چیزیں ہیں۔ ایران کے سرکاری اداروں یا بین الاقوامی توانائی اور جہاز رانی کے معتبر ڈیٹا کی مزید تفصیل سامنے آنے پر ہی فروخت کی مقدار اور آمدن کا زیادہ جامع جائزہ لیا جا سکے گا۔
اردو ہیڈلائنز نے دعووں کو محسن رضائی سے منسوب رکھا ہے، ان سے آگے کوئی مقدار یا نتیجہ اخذ نہیں کیا اور ممکنہ تصادم سے متعلق زبان کو کسی وقوع پذیر حملے کے طور پر پیش نہیں کیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




