مہاتما گاندھی کے 688 ذاتی تحریری نوٹس ممبئی میں ہونے والی نیلامی میں 17 لاکھ امریکی ڈالر میں فروخت ہوئے ہیں۔ اردو پوائنٹ پر شائع ڈی ڈبلیو کی 22 اگست کی رپورٹ کے مطابق نیلام گھر سیفرن آرٹ نے اسے بھارتی تاریخی دستاویز کے لیے ادا کی گئی ریکارڈ رقم قرار دیا۔ نوٹس کئی دہائیوں تک ہنگورانی خاندان کے پاس محفوظ رہے اور پہلی بار ایک بڑے مجموعے کی صورت میں فروخت کے لیے پیش کیے گئے۔

یہ نوٹس گاندھی نے 1944 سے 1946 کے دوران آنند ہنگورانی کے لیے لکھے تھے، جن کی اہلیہ ودیا کے انتقال کے بعد انہیں روزمرہ حوصلہ اور فکری رہنمائی کی ضرورت تھی۔ رپورٹ کے مطابق مختصر تحریروں میں سچ، خدا، عدم تشدد، ضبطِ نفس اور روزانہ کے اخلاقی رویے جیسے موضوعات شامل ہیں۔ بعد میں یہی مجموعہ اے تھاٹ فار دی ڈے کے عنوان سے معروف ہوا۔

نیلامی میں صرف نوٹس ہی نہیں بلکہ گاندھی سے متعلق ایک چرخہ، تحریری مواد، مسودات، خطوط اور تصاویر بھی شامل تھیں۔ تاہم 17 لاکھ ڈالر کی نمایاں رقم 688 نوٹس کے مجموعے سے متعلق بتائی گئی ہے۔ خریدار کی شناخت اور اشیا کی آئندہ عوامی نمائش کے بارے میں زیرِ جائزہ رپورٹ میں مکمل تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ان امور پر قیاس شامل نہیں کیا جا رہا۔

آنند ہنگورانی نے 1930 میں گاندھی سے ملاقات کی تھی اور نمک مارچ میں بھی شریک ہوئے تھے۔ اس شخصی تعلق نے نوٹس کو محض تاریخی دستخط سے زیادہ ایک مسلسل نجی مکالمے کی حیثیت دی۔ نیلام گھر کے شریک بانی دنیش وازیرانی کے مطابق مجموعہ تاریخی، ذاتی اور فکری اہمیت کا حامل ہے۔ یہ تشخیص نیلام گھر کی پیشہ ورانہ رائے ہے، کسی سرکاری ورثہ ادارے کا الگ فیصلہ نہیں۔

تاریخی دستاویزات کی قیمت ان کی نایابی، اصل ہونے کی دستاویز، حالت، موضوع اور متعلقہ شخصیت سے براہِ راست تعلق پر منحصر ہوتی ہے۔ بڑی نیلامی رقم کسی تحریر کے اخلاقی یا علمی مقام کا واحد پیمانہ نہیں، لیکن یہ جمع کرنے والوں کی طلب اور محفوظ ماخذ کی قدر ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ میں نوٹس کی مکمل عبارت شائع نہیں کی گئی اور اردو ہیڈلائنز ان تحریروں کی نقل پیش نہیں کر رہا۔

یہ واقعہ برصغیر کی جدید تاریخ سے متعلق نجی مجموعوں کے تحفظ اور عوامی رسائی پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ اگر خریدار مجموعہ کسی عجائب گھر یا تحقیقی ادارے کو دیتا ہے تو اس کی دستیابی بڑھ سکتی ہے، مگر فی الحال ایسا کوئی اعلان تصدیق شدہ نہیں۔ اردو ہیڈلائنز نے خبر کو نیلامی کی رقم، اشیا کی تعداد، تاریخی پس منظر اور نیلام گھر کے منسوب بیان تک محدود رکھا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک