پاکستان سمیت آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی ای ون بستی منصوبے اور اس سے متعلق آبادکاری سرگرمیوں کو مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے فلسطین سے متعلق دستاویزی پورٹل پر شائع مشترکہ بیان اور ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس بیان میں شامل ہیں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مشرق میں ای ون علاقے میں آبادکاری فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرتی ہے اور 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے امکان کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ آٹھوں ممالک نے اسرائیلی آبادکاری پالیسیوں، آبادکاروں کے تشدد اور زمین پر یک طرفہ تبدیلیوں کی مذمت کی اور بین الاقوامی برادری سے مؤثر اقدام کا مطالبہ کیا۔ یہ موقف بیان جاری کرنے والے ممالک کا مشترکہ سفارتی مؤقف ہے۔

ای ون منصوبہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان حساس مقام پر واقع ہے۔ ایکسپریس کی رپورٹ میں گزشتہ منظوری کے تحت تقریباً 3,400 رہائشی یونٹس اور حالیہ ٹینڈر میں 1,234 گھروں کا حوالہ دیا گیا۔ یہ تعدادیں زیرِ جائزہ رپورٹ اور مشترکہ سفارتی پس منظر سے لی گئی ہیں؛ خبر کسی نئے تعمیراتی کام کے مکمل ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی۔ منصوبے کی مختلف انتظامی منظوریوں، ٹینڈروں اور عملی تعمیر کے مراحل کو الگ سمجھنا ضروری ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبادکاری کی توسیع اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ای ون سے متعلق پیش رفت پر تشویش ظاہر کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے دو ریاستی حل کے امکانات مزید کمزور ہو سکتے ہیں۔ مشترکہ بیان نے 1967 کی سرحدوں اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت رکھنے والی فلسطینی ریاست کے اصول کی حمایت دہرائی۔

آٹھ ممالک نے بین الاقوامی برادری سے اسرائیلی آبادکاری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اور جواب دہی کی اپیل کی۔ بیان میں پابندیوں کا مطالبہ بھی شامل ہے، تاہم کسی نئی بین الاقوامی پابندی کے نفاذ یا سلامتی کونسل کے تازہ فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو سفارتی مشترکہ موقف اور مطالبہ سمجھا جائے، نافذ شدہ عالمی اقدام نہیں۔

ای ون معاملہ اسرائیل فلسطین تنازع کے جغرافیائی اور قانونی پہلوؤں سے جڑا ہے۔ اردو ہیڈلائنز نے دعوؤں کو متعلقہ مشترکہ بیان، اقوام متحدہ کے دستاویزی ریکارڈ اور معتبر خبر تک محدود رکھا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا تازہ تفصیلی جواب زیرِ جائزہ مشترکہ بیان میں شامل نہیں تھا؛ کسی نئے ردعمل، ٹینڈر کے عملی مرحلے یا بین الاقوامی فیصلے کو بعد میں اسی واقعے کی مادی اپ ڈیٹ کے طور پر رپورٹ کیا جائے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک