امریکا میں نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی وہ پالیسی منسوخ کردی ہے جس کے تحت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں کی کارروائی اجتماعی طور پر روک دی گئی تھی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق وفاقی جج جینیٹ ورگاس نے جمعہ کو فیصلہ دیتے ہوئے اس اقدام کو قانون سے متصادم قرار دیا اور کہا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس کی جانب سے دیے گئے اختیار سے تجاوز کیا۔ ایکسپریس اردو کی 22 اگست کی رپورٹ کے مطابق اس فہرست میں پاکستان بھی شامل تھا، اس لیے عدالتی فیصلے کا تعلق پاکستانی درخواست گزاروں سے بھی بنتا ہے۔

یہ معاملہ امیگرنٹ ویزوں سے متعلق ہے، یعنی ان درخواستوں سے جو امریکا میں مستقل رہائش کے راستے سے جڑی ہوتی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انتظامیہ نے جنوری میں 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں کی کارروائی روکنے کا اعلان کیا تھا۔ حکام نے اس فیصلے کو اس خدشے سے منسلک کیا تھا کہ بعض درخواست گزار مستقبل میں سرکاری امداد پر انحصار کرسکتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانون قونصلر افسران کو ہر درخواست کے حالات الگ دیکھنے کا اختیار دیتا ہے، جبکہ قومیت کی بنیاد پر مکمل اور پیشگی روک نے اس انفرادی جانچ کی جگہ ایک عمومی پابندی قائم کردی۔

عدالتی مقدمہ دو غیر منافع بخش تنظیموں اور گیارہ افراد کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جج نے پالیسی کو کالعدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ محکمہ خارجہ امیگریشن قانون کے تحت دستیاب اختیارات استعمال کرسکتا ہے، مگر ایسا طریقہ اختیار نہیں کرسکتا جو قانون کی مقرر کردہ انفرادی جانچ کو عملاً ختم کردے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے افغانستان، ایران، روس اور صومالیہ سمیت کئی متاثرہ ممالک کا ذکر کیا، جبکہ پاکستان کی شمولیت کی اطلاع ایکسپریس اردو کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔

اس فیصلے کو ویزا ملنے کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اجتماعی روک ختم ہونے کے بعد بھی ہر درخواست گزار کو دستاویزات، اہلیت، سکیورٹی جانچ، مالی حالات اور متعلقہ امریکی امیگریشن قواعد کی بنیاد پر قونصلر عمل سے گزرنا ہوگا۔ عدالتی حکم کا بنیادی اثر یہ ہے کہ درخواستوں کو محض متعلقہ ملک کی شہریت کی وجہ سے ایک ہی درجے میں رکھ کر روکنے والی پالیسی برقرار نہیں رہی۔ انفرادی کیس کی منظوری یا انکار بدستور اس کے اپنے حقائق اور قانونی تقاضوں سے مشروط ہوگا۔

محکمہ خارجہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ زیر سماعت مقدمے پر تبصرہ نہیں کرتا، تاہم امریکی شہریوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ویزا درخواستوں کی جانچ جاری رکھے گا۔ دستیاب رپورٹس میں فوری اپیل، نئی متبادل پالیسی یا پاکستانی درخواست گزاروں کے لیے کسی الگ طریقۂ کار کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے اس وقت مصدقہ نتیجہ عدالت کی جانب سے 75 ممالک پر لاگو اجتماعی امیگرنٹ ویزا توقف کی منسوخی تک محدود ہے؛ اگلی عملی پیش رفت محکمہ خارجہ کی ہدایات اور قونصل خانوں میں درخواستوں کی بحال شدہ کارروائی سے واضح ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک