ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمنیہ نے کہا ہے کہ حالیہ جنگوں کے تجربات کے بعد ملک کا عسکری نظریہ دفاعی انداز سے زیادہ جارحانہ ردعمل کی جانب منتقل ہورہا ہے۔ ایکسپریس اردو اور ڈان کی 22 اگست کی رپورٹوں میں ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے ان کا بیان نقل کیا گیا ہے۔ اکرمنیہ نے واضح کیا کہ اس تبدیلی کا مطلب دشمن پر بلاجواز پیشگی حملے شروع کرنا نہیں بلکہ کسی حملے کا فوری اور اس سے زیادہ وسیع جواب دینے کی صلاحیت بڑھانا ہے۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ لڑائی میں متاثر ہونے والے فوجی نظاموں کی مرمت کی گئی ہے اور نئے نظام سروس میں شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمان کے ڈھانچے میں تبدیلی کا مقصد فیصلہ سازی اور ردعمل کی رفتار بہتر بنانا ہے تاکہ کسی نئی غلط فہمی یا حملے کی صورت میں زیادہ مضبوط جواب دیا جا سکے۔ یہ تمام تفصیلات ایرانی فوج کے سرکاری مؤقف کے طور پر رپورٹ ہوئی ہیں؛ آزاد سطح پر ہر فوجی صلاحیت یا نظام کی عملی حالت کی تصدیق دستیاب نہیں۔
ایکسپریس کی رپورٹ نے 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کے دوران حکمت عملی میں تدریجی تبدیلی کا ذکر کیا، جبکہ ڈان نے ترجمان کی یہ وضاحت بھی نقل کی کہ جارحانہ انداز کو پیشگی کارروائی کا مستقل اختیار نہ سمجھا جائے۔ دونوں رپورٹوں میں بنیادی نکتہ ایک جیسا ہے: ایران اپنی دفاعی منصوبہ بندی میں تیز، وسیع اور زیادہ مؤثر جوابی صلاحیت پر زور دے رہا ہے۔
بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکا ایران کشیدگی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور علاقائی دفاعی اتحاد عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔ عسکری نظریے کی زبان کشیدگی بڑھا سکتی ہے، مگر اس خبر سے کسی فوری حملے، نئی جنگی کارروائی یا ہدف کی تصدیق نہیں ہوتی۔ آئندہ قابلِ تصدیق پیش رفت کسی عملی فوجی اقدام، سرکاری تحریری حکمت عملی یا بین الاقوامی نگرانی سے سامنے آئے گی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




