امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کیرولائنا میں ایک سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا دعویٰ دوبارہ پیش کیا ہے۔ ایکسپریس اردو، ایسوسی ایٹڈ پریس اور گارڈین کی 21 اور 22 اگست کی رپورٹوں کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ امریکا بحری ناکہ بندی کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول رکھتا ہے اور جہازوں کی آمدورفت امریکی اجازت سے مشروط ہے۔ یہ صدر کا سیاسی و عسکری دعویٰ ہے، آبنائے ہرمز کی بین الاقوامی قانونی حیثیت میں کسی تسلیم شدہ تبدیلی کا اعلان نہیں۔

جلسے میں ٹرمپ نے ایران پر مزید بمباری کے بارے میں سوالیہ اور مذاق کے انداز میں تبصرہ بھی کیا۔ رپورٹوں نے اسے جاری امریکا ایران جنگ اور تقریباً چھ ماہ سے برقرار کشیدگی کے تناظر میں نقل کیا ہے۔ اس بیان کی حساسیت کے باعث الفاظ کو جنگ کے نئے باضابطہ حکم، فوری فوجی کارروائی یا پالیسی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا؛ دستیاب رپورٹوں میں کسی نئے حملے کے حکم کی تصدیق نہیں کی گئی۔

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک بین الاقوامی آبی راستہ ہے جس سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ حالیہ جنگ، بحری رکاوٹوں اور مذاکرات کی ناکامی نے اس گزرگاہ کو عالمی توانائی، جہاز رانی اور سلامتی کی بحث کا مرکز بنا رکھا ہے۔ گارڈین کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے درجنوں تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرانے کی اطلاع دی، جبکہ ایران پہلے بھی امریکی علاقائی دعووں کو مسترد کرچکا ہے۔

اس خبر میں ثابت شدہ بات ٹرمپ کا جلسے میں دیا گیا بیان اور متعدد معتبر رپورٹوں میں اس کا یکساں متن ہے۔ اس سے آگے کسی ممکنہ حملے، سمندری سرحد کی تبدیلی یا سفارتی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کی جارہی۔ آئندہ اہم پیش رفت امریکی انتظامیہ کی باقاعدہ پالیسی، فوجی حکم، ایران کے سرکاری ردعمل یا مذاکرات کے کسی قابلِ تصدیق نتیجے کی صورت میں ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک