افغانستان کی طالبان حکومت نے پولیس سے متعلق نیا قانون جاری کیا ہے جس میں ملک بھر میں تمام مظاہروں پر پابندی عائد کرنے کی شق شامل ہے۔ ایکسپریس اردو اور کابل ناؤ کی 22 اگست کی رپورٹس کے مطابق طالبان کے امیر ہبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری سے جاری ہونے والے قانونِ شرطہ کی شق 50 میں مظاہروں کی ممانعت بیان کی گئی ہے۔ دستیاب رپورٹوں میں پابندی کے عملی دائرے، اجازت کے کسی ممکنہ طریقۂ کار یا خلاف ورزی کی مخصوص سزا کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
قانون میں پولیس کے لیے شرطہ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور اس کے فرائض، نظم و ضبط اور زیرِ حراست افراد سے متعلق بعض اصول درج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اہلکاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حراست میں لیے گئے شخص کی صحت اور عزت کو نقصان نہ پہنچائیں۔ عدالتی یا قانونی بنیاد کے بغیر مار پیٹ کی ممانعت کا بھی ذکر ہے۔ ان دفعات کا عملی نفاذ، نگرانی اور شکایت کے ازالے کا نظام ابھی دستیاب عوامی رپورٹنگ سے پوری طرح واضح نہیں ہوتا۔
ملک گیر پابندی افغانستان میں پرامن اجتماع اور اظہار کے لیے پہلے سے محدود ماحول کو مزید تنگ کر سکتی ہے۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد احتجاجی سرگرمیاں، خصوصاً خواتین کے حقوق سے متعلق مظاہرے، مختلف پابندیوں اور کارروائیوں کا سامنا کرتی رہی ہیں۔ نئی شق سابقہ انتظامی پابندیوں کے مقابلے میں ایک تحریری قانونی بنیاد فراہم کرتی دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے نفاذ کی حدود اور مقامی حکام کے اختیارات کے بارے میں مزید سرکاری وضاحت درکار ہوگی۔
کابل ناؤ نے بھی نئی پولیس قانون سازی میں تمام مظاہروں کی پابندی کی خبر دی ہے، جبکہ ایکسپریس اردو نے قانون کی دیگر دفعات اور سابقہ احتجاجی ماحول کا پس منظر بیان کیا۔ دونوں رپورٹس میں بنیادی نکتہ یکساں ہے کہ نئی شق پورے افغانستان پر لاگو بتائی گئی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ مذہبی، سرکاری یا مقامی اجتماعات کے لیے کوئی الگ استثنا موجود ہے یا نہیں، اس لیے رپورٹ میں ان امکانات کے بارے میں قیاس شامل نہیں کیا جا رہا۔
پرامن اجتماع کا حق شہری آزادیوں کے بنیادی پیمانوں میں شمار ہوتا ہے۔ افغانستان میں اس پابندی کے اثرات کا اندازہ اس وقت بہتر طور پر ہو سکے گا جب قانون کا مکمل متن، نفاذی ہدایات اور کسی کارروائی کے عملی شواہد سامنے آئیں گے۔ زیرِ حراست افراد کے تحفظ سے متعلق دفعات بھی صرف تحریر کی موجودگی سے مؤثر نہیں ہوتیں؛ ان کے لیے قابلِ رسائی نگرانی، جواب دہی اور شکایت کا نظام اہم ہوتا ہے۔
یہ خبر نئے قانون اور معتبر رپورٹنگ میں موجود نکات تک محدود ہے۔ کسی مظاہرے کے خلاف نئی کارروائی، گرفتاری یا سزا کی اطلاع اس رپورٹ میں شامل نہیں کیونکہ زیرِ جائزہ ذرائع نے ایسی کسی مخصوص کارروائی کی تصدیق نہیں کی۔ اردو ہیڈلائنز قانون کے نفاذ سے متعلق آئندہ قابلِ تصدیق معلومات کو الگ پیش کرے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




