ایران نے عراق کی متعدد سفارتی درخواستوں کے بعد بعض عراقی تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی خصوصی اجازت دے دی ہے۔ ایکسپریس اردو، رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی 22 اگست کی رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے بتایا کہ یہ سہولت ان منتخب جہازوں کے لیے دی گئی جن کے گزرنے کے بارے میں بغداد نے مختلف ذرائع سے رابطہ کیا تھا۔ اس پیش رفت کا مطلب تمام بحری ٹریفک کے لیے آبنائے ہرمز کا مکمل اور غیر مشروط طور پر کھل جانا نہیں، بلکہ عراقی تیل لے جانے والے بعض جہازوں کے لیے محدود اجازت ہے۔

ارنا کے مطابق عراقی جہازوں کے لیے خصوصی راستہ حاصل کرنا بغداد کی اہم درخواستوں میں شامل تھا جو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے حالیہ دورۂ عراق کے دوران بھی اٹھائی گئی۔ عراقی صدر نزار آمدی نے کہا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں عراقی تیل لے جانے والے کچھ جہازوں کے گزرنے میں سہولت فراہم کی اور بغداد اس تعاون پر شکر گزار ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال بدستور پیچیدہ ہے، اس لیے اس محدود اجازت کو معمول کی مکمل بحری سرگرمی کی بحالی نہیں سمجھا جاسکتا۔

رائٹرز کے مطابق آبی گزرگاہ میں ٹریفک جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے اور جہازوں کو حملوں کا خطرہ برقرار ہے۔ عراق ان ممالک میں شامل ہے جن کی خام تیل کی برآمدات اس راستے میں رکاوٹ سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ جنگ سے پہلے عراق تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ تیل پیدا کرتا تھا، مگر سمندری نقل و حمل میں تعطل نے برآمدی نظام پر دباؤ بڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ بغداد ایران سے خصوصی اجازت لینے کے ساتھ متبادل راستوں پر بھی کام کررہا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ عراق ترکیہ کی جیہان بندرگاہ کے ذریعے برآمدات بڑھانے اور شام کی بانیاس بندرگاہ و اردن کی عقبہ بندرگاہ سے تیل بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ عراقی حکومت ایک ہی بحری راستے پر انحصار کم کرنا چاہتی ہے۔ تاہم متبادل راستوں کی عملی گنجائش، لاگت، تحفظ اور دستیاب بنیادی ڈھانچے کے بارے میں ابھی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کی حساس گزرگاہ ہے، اس لیے محدود عراقی اجازت بھی تیل منڈی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے اہم اشارہ ہے۔ اس کے باوجود دستیاب معلومات صرف بعض عراقی ٹینکروں کے عبور کی تصدیق کرتی ہیں؛ تمام تجارتی جہازوں، دوسرے ممالک کے ٹینکروں یا معمول کی مکمل بحری نقل و حرکت کے بارے میں کوئی عمومی اعلان نہیں ہوا۔ آئندہ صورت حال کا دارومدار علاقائی سلامتی، ایران اور عراق کے عملی انتظامات اور جہاز رانی کے خطرات میں کمی پر ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک