امریکا کے خصوصی ایلچی برائے شام اور ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام بیرک نے کہا ہے کہ گولان کی پہاڑیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق شامی علاقہ ہیں اور اسرائیل بدستور ان پر قابض ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس، شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا اور ایکسپریس اردو کی 22 اگست کی رپورٹنگ میں بیرک کا یہ بیان نقل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قبضہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی نظم کے خلاف ہے۔
اسرائیل نے گولان کا بیشتر حصہ 1967 کی جنگ میں شام سے حاصل کیا اور 1981 میں وہاں اپنے قوانین اور انتظامی اختیار کے اطلاق کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 نے اس اقدام کو بے اثر اور بین الاقوامی قانونی حیثیت سے محروم قرار دیا تھا۔ عالمی برادری کی اکثریت گولان کو شامی علاقہ سمجھتی ہے جس پر اسرائیلی قبضہ ہے، اگرچہ امریکا نے 2019 میں اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بیرک کا تازہ بیان اسی امریکی پالیسی پس منظر میں اہم ہے کیونکہ انہوں نے اقوام متحدہ کے قانونی مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے گولان کو شامی علاقہ کہا۔ دستیاب رپورٹنگ میں امریکا کی جانب سے 2019 کے باضابطہ فیصلے کو واپس لینے کا کوئی نیا انتظامی حکم شامل نہیں۔ اس لیے ایلچی کے بیان اور امریکی حکومت کی مکمل رسمی پالیسی میں ممکنہ فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
سانا نے بیرک کے الفاظ کو شام کے دیرینہ مؤقف کی تائید کے طور پر پیش کیا۔ شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اپریل میں سلامتی کونسل سے خطاب کے دوران اسرائیلی انخلا اور قرارداد 497 پر عمل کا مطالبہ کیا تھا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے بیرک کے بیان پر اختلاف ظاہر کیا اور اسے امریکی تسلیم شدہ پالیسی سے متصادم قرار دیا، جس سے سفارتی سطح پر واضح اختلاف سامنے آیا ہے۔
گولان کا معاملہ شام، اسرائیل، امریکا اور اقوام متحدہ کے درمیان کئی دہائیوں پرانے قانونی و سفارتی تنازع سے تعلق رکھتا ہے۔ کسی ایلچی کا بیان زمینی کنٹرول تبدیل نہیں کرتا اور نہ ہی خود بخود کوئی نئی بین الاقوامی قرارداد نافذ کرتا ہے۔ اس کا فوری اثر سیاسی پیغام اور امریکی سفارتی زبان میں تبدیلی یا اختلاف کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ عملی پالیسی کے لیے رسمی حکومتی اقدام درکار ہوگا۔
اردو ہیڈلائنز نے خبر کو بیرک کے منسوب بیان، سلامتی کونسل کی معلوم قرارداد اور معتبر ذرائع میں موجود ردعمل تک محدود رکھا ہے۔ کسی فوجی نقل و حرکت، سرحدی تبدیلی یا مذاکراتی معاہدے کا دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔ اگر واشنگٹن باضابطہ پالیسی وضاحت، دمشق یا اسرائیل نیا سرکاری ردعمل، یا اقوام متحدہ کوئی تازہ اقدام جاری کرتا ہے تو اسے اسی واقعے کی مادی اپ ڈیٹ سمجھا جائے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




