اردو ہیڈلائنز ڈیسک

تہران: ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے ملک کو درپیش موجودہ حالات کو ایک مکمل معاشی، فوجی اور سکیورٹی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت شدید دباؤ کے باوجود عوام کی خدمت اور ملک کے معاملات چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں ملکی معیشت کے نمایاں مسائل کا اعتراف کیا اور کہا کہ حکومت ان مشکلات پر شرمندہ ہے۔

پیزشکیان نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر انتہائی سخت اور تباہ کن پابندیوں کی بات آسانی سے کرتے ہیں، جبکہ ایران ان کے بقول ایک غیر مساوی جنگ کے ماحول میں کھڑا ہے اور عوام کی خدمت جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی صدر کے بیان میں اقتصادی دباؤ کو موجودہ بحران کا ایک نمایاں پہلو قرار دیا گیا۔ انہوں نے معیشت میں موجود مسائل کو چھپانے کے بجائے ان کا اعتراف کیا اور اپنی حکومت کے لیے انہیں باعثِ شرمندگی قرار دیا۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ میں ان کے مؤقف کو ایران پر معاشی، فوجی اور سکیورٹی سطح پر بیک وقت موجود دباؤ کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔

مزید تحقیق میں ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ بھی پیزشکیان کے اسی بیان کی تصدیق کرتی ہے۔ ڈان نے الجزیرہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی صدر نے ایران کو مکمل معاشی، فوجی اور سکیورٹی جنگ میں قرار دیا اور معیشت میں سنگین مسائل پر حکومتی شرمندگی کا اظہار کیا۔ اس طرح بنیادی بیان کے اہم نکات ایک سے زیادہ معتبر نیوز رپورٹس میں یکساں طور پر سامنے آئے ہیں۔

ایران پریس کی اسی روز شائع ہونے والی رپورٹ میں پیزشکیان کے خطاب کے مزید سیاق میں بتایا گیا کہ انہوں نے پانی، بجلی، گیس، ماحولیات اور بینکاری سمیت داخلی عدم توازن اور بیرونی دباؤ کا ذکر کیا۔ ایرانی صدر کے مطابق ان کی انتظامیہ نے مشکل حالات میں بنیادی ضروریات کی فراہمی اور حکومتی نظام کو فعال رکھنے کی کوشش کی۔ ایران پریس نے ان کے بیان کو ایک تقریب میں کیے گئے خطاب سے منسوب کیا ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران کی معیشت پر پابندیوں، جنگ اور تجارت میں رکاوٹوں کے اثرات زیر بحث ہیں۔ ایکسپریس اردو کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی معاشی دباؤ میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ پیزشکیان حالیہ بیانات میں جنگ کے معاشی اور سیاسی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دے چکے ہیں۔

اس خبر میں ”مکمل جنگ“ کی تعبیر ایرانی صدر کے اپنے سیاسی بیان کے طور پر پیش کی جا رہی ہے، نہ کہ اردو ہیڈلائنز کی آزادانہ قانونی یا عسکری درجہ بندی کے طور پر۔ اسی طرح پابندیوں، دباؤ اور غیر مساوی جنگ سے متعلق نکات پیزشکیان کے بیان اور حوالہ شدہ رپورٹس سے منسوب ہیں۔

ماخذ و تصدیقی نوٹ: اردو ہیڈلائنز نے ایکسپریس اردو کی رپورٹ ”ایران مکمل جنگ میں ہے، معیشت کے سنگین مسائل پر حکومت شرمندہ ہے: صدر پیزشکیان“ مکمل طور پر دوبارہ چیک کی۔ مزید تحقیق میں ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ اور ایران پریس کی اسی روز کی رپورٹ سے صدر پیزشکیان کے بنیادی بیان اور اس کے اضافی سیاق کی جانچ کی گئی۔ خبر کو اردو ہیڈلائنز ڈیسک نے دستیاب ذرائع کی بنیاد پر نئے اور غیر نقل شدہ اردو متن میں مرتب کیا ہے۔