ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف سخت اقتصادی مہم کو فوجی میدان میں ناکامی کا بالواسطہ اعتراف قرار دیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کی 23 اگست کی رپورٹ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کا بیان نقل کیا۔ یہ ایرانی فوجی ادارے کا سیاسی و دفاعی دعویٰ ہے، جسے اس خبر میں آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں کہا جا رہا۔

محبی کے مطابق اگر امریکا فوجی محاذ پر کامیاب ہوتا تو اسے اقتصادی دباؤ کا سہارا لینے کی ضرورت نہ پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کئی دہائیوں سے پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور مختلف شعبوں پر پہلے ہی پابندیاں عائد ہیں۔ امریکی حکومت کا تازہ تفصیلی جواب یا پابندیوں کے عملی دائرۂ کار کی مکمل دستاویز اس رپورٹ میں شامل نہیں۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایران کسی ممکنہ جارحانہ اقدام کا جواب دینے کے لیے مختلف منصوبے رکھتا ہے اور دوسرے ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط برقرار رکھ سکتا ہے۔ ان کے بقول اقتصادی صورت حال کے اثرات سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی موجود ہے۔ یہ ایران کی تیاری اور صلاحیت سے متعلق سرکاری دعوے ہیں؛ ان کے نتائج کا اندازہ تجارت، پیداوار، کرنسی، توانائی کی برآمدات اور پابندیوں کے حقیقی نفاذ کے قابل پیمائش اعداد سے ہوگا۔

رپورٹ میں محبی سے منسوب گزشتہ فوجی جھڑپوں، بحری اہداف اور امریکی افواج کے فاصلے سے متعلق متعدد دعوے بھی شامل ہیں۔ ان اعداد اور واقعات کی اس رپورٹ میں کوئی آزاد عسکری تصدیق فراہم نہیں کی گئی، اس لیے اردو ہیڈلائنز انہیں پاسداران انقلاب کے بیان کے طور پر ہی نقل کر رہا ہے۔ متنازع جنگی دعوؤں کو غیر مشروط حقیقت یا کسی فریق کی قطعی فتح کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

اقتصادی پابندیاں عام طور پر بینکاری، توانائی، نقل و حمل، بیمہ اور بین الاقوامی ادائیگیوں پر اثر ڈال سکتی ہیں، مگر ہر نئی پابندی کا اثر اس کے قانونی متن، نفاذ اور دوسرے ممالک کے تعاون سے طے ہوتا ہے۔ آئندہ امریکی اعلان، ایرانی سرکاری اعداد یا آزاد تجارتی و عسکری جائزے سامنے آنے پر صورتحال زیادہ واضح ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک