تہران: ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک معاشی، فوجی اور سکیورٹی محاذوں پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور موجودہ صورت حال کو انہوں نے مکمل جنگ سے تعبیر کیا۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق پیزشکیان نے یہ بات ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہی اور ملک کی معیشت میں نمایاں مسائل پر حکومت کی شرمندگی کا اظہار کیا۔

ایرانی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی اور سخت پابندیوں کی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران پر تباہ کن یا بدترین پابندیاں لگانے کی بات آسانی سے کرتا ہے۔ پیزشکیان کے مطابق ایران اس غیرمساوی دباؤ کے باوجود قائم ہے اور عوام کی خدمت کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ تہران کی سیاسی تشریح اور صدر کا مؤقف ہے؛ خبر نے امریکی حکومت کا تفصیلی تازہ جواب شامل نہیں کیا۔

رپورٹ نے امریکی معاشی دباؤ، تجارتی رکاوٹوں، جنگ کے اثرات اور آبنائے ہرمز سے متعلق جاری کشیدگی کو بیان کیا۔ تاہم اس خبر میں ایران کے تازہ معاشی اشاریوں، پابندیوں کی نئی باضابطہ فہرست یا فوجی صورت حال کے آزادانہ اعداد و شمار موجود نہیں۔ اسی لیے مکمل جنگ کی اصطلاح کو ایرانی صدر کے بیان کے طور پر ہی پیش کیا جا رہا ہے، کسی آزاد قانونی یا عسکری درجہ بندی کے طور پر نہیں۔

پیزشکیان نے حالیہ دنوں میں جنگ ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا اور کہا تھا کہ اختتام طاقت اور وقار کی پوزیشن سے ہونا بہتر ہوگا۔ ان بیانات سے ایک طرف مزاحمت کا پیغام اور دوسری طرف معاشی و سیاسی قیمت کا اعتراف سامنے آتا ہے، لیکن کسی مذاکراتی معاہدے، جنگ بندی یا پالیسی تبدیلی کی تصدیق نہیں ہوتی۔

اگلی قابل تصدیق پیش رفت ایران کی اقتصادی پالیسی، امریکی پابندیوں کے باضابطہ اقدامات، آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلوں یا سفارتی رابطوں سے سامنے آئے گی۔ موجودہ رپورٹ کا بنیادی نکتہ ایرانی صدر کی جانب سے دباؤ کی شدت اور داخلی معاشی مشکلات کا کھلا اعتراف ہے، جسے اسی نسبت اور حدود کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک