گلگت: گلگت بلتستان کے انتخابی ٹریبونل نے GBA-16 دیامر-II سے استحکام پاکستان پارٹی کے امام ملک کی اسمبلی رکنیت معطل کرتے ہوئے حلقے کے پوسٹل بیلٹ پیپرز کی تصدیق اور گنتی مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کو ہدایت کی کہ یہ عمل 16 ستمبر تک مکمل کیا جائے اور اس کے بعد حتمی مجموعی نتیجہ جاری کیا جائے۔

یہ فیصلہ پیپلز پارٹی کے امیدوار عطاء اللہ خان کی انتخابی عذرداری پر سامنے آیا۔ درخواست گزار نے جون میں ہونے والے گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے بعد حلقے کے نتیجے کو چیلنج کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ریٹرننگ افسر نے پوسٹل ووٹ شمار کیے بغیر فارم 49 جاری کیا، جس کی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نے امام ملک کو کامیاب امیدوار قرار دیا۔ امام ملک انتخاب کے وقت آزاد امیدوار تھے اور بعد میں استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوئے۔

ٹریبونل کے جج مشتاق احمد نے فریقین کے دلائل اور چیف الیکشن کمشنر کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ریٹرننگ افسر کو عبوری مجموعی نتیجے کی بنیاد پر حتمی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں تھا، جبکہ پوسٹل بیلٹ شامل کیے بغیر نتیجہ جاری کرنے کے عمل میں قانونی تقاضوں کی مکمل پابندی نہیں ہوئی۔

فیصلے میں ریٹرننگ افسر کو حکم دیا گیا ہے کہ پوسٹل بیلٹ کا سربمہر پیکٹ فریقین یا ان کے مجاز نمائندوں کی موجودگی میں کھولا جائے۔ شفافیت اور عدالتی نگرانی کے لیے سینئر سول جج گلگت فہد بن نقیب، گلگت بلتستان چیف کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار راجہ میر اور ٹریبونل کی معاون ٹیم کو کارروائی کے دوران موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس کو بھی مقام پر سخت حفاظتی انتظامات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پوسٹل ووٹوں کی تصدیق اور گنتی کے بعد ریٹرننگ افسر نیا حتمی مجموعی فارم 49 تیار کرکے چیف الیکشن کمشنر کو پیش کرے گا۔ اس حتمی نتیجے کی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر کامیاب امیدوار کے بارے میں نئی ڈیکلریشن جاری کریں گے۔

ٹریبونل نے جون 2025 کی تاریخ والے سابق حتمی مجموعی نتیجے کو پوسٹل بیلٹ شامل نہ ہونے کی وجہ سے غیر قانونی قرار دیا اور نئی مجموعی کارروائی مکمل ہونے تک امام ملک کی رکنیت معطل کر دی۔ یہ فیصلہ کسی دوسرے امیدوار کو فوری طور پر کامیاب قرار نہیں دیتا بلکہ پہلے پوسٹل ووٹوں کی قانونی طریقے سے گنتی اور پھر نئے حتمی نتیجے کے اجرا کا تقاضا کرتا ہے۔