وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری تعلیمی اداروں میں جدید سائنس لیبارٹریوں کی بحالی کے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے نئی تزئین و آرائش شدہ لیبارٹریوں کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے کا مقصد طلبہ کو سائنس کی عملی تعلیم کے لیے بہتر اور جدید ماحول فراہم کرنا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سائنس کی تعلیم صرف نظریاتی مواد تک محدود نہیں رہ سکتی۔ طلبہ کو مشاہدہ، تحقیق، تجربہ اور دریافت کے مواقع فراہم کیے بغیر سائنسی تعلیم اپنی پوری افادیت حاصل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے سرکاری تعلیمی اداروں میں معیار بہتر بنانے اور طلبہ کو جدید سہولتیں فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

وفاقی نظامت تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل جاوید اقبال مرزا نے تقریب میں منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے کے دوران اسلام آباد کے 22 اداروں میں مجموعی طور پر 30 سائنس لیبارٹریوں کی تزئین و آرائش مکمل کی گئی۔ یہ لیبارٹریاں متعلقہ اداروں کے طلبہ کو عملی تجربات اور سائنسی تصورات سمجھنے کے لیے استعمال ہوں گی۔

منصوبہ پہلے مرحلے تک محدود نہیں رکھا گیا۔ سرکاری معلومات کے مطابق دوسرے مرحلے میں مزید 60 سائنس لیبارٹریوں کی بحالی اور جدید بنانے کا کام شروع ہو چکا ہے۔ اس طرح دونوں مراحل مکمل ہونے پر منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 90 لیبارٹریوں پر کام ہوگا، تاہم دوسرے مرحلے کی تکمیل کی حتمی تاریخ سرکاری خبر میں بیان نہیں کی گئی۔

تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید لیبارٹری کا فائدہ اس وقت زیادہ ہوگا جب طلبہ کو باقاعدگی سے عملی سرگرمیوں میں شریک کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے سرکاری شعبے کے تعلیمی اداروں میں تدریسی معیار اور سیکھنے کے ماحول کی بہتری کو حکومت کی ترجیح قرار دیا۔ فراہم کردہ سرکاری معلومات میں منصوبے کی مجموعی مالی لاگت یا ہر ادارے کے لیے مختص سہولتوں کی الگ تفصیل شامل نہیں تھی۔