اسلام آباد: پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ نے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی، گیپکو، کی نجکاری کے لیے نو سرمایہ کار پارٹیوں اور کنسورشیمز کو پری کوالیفائی کر دیا ہے۔ بورڈ نے یہ فیصلہ پیر کو مشیر برائے نجکاری اور پرائیویٹائزیشن کمیشن کے چیئرمین محمد علی کی زیر صدارت اجلاس میں کیا۔
کمیشن کے مطابق گیپکو کے 51 فیصد سے 100 فیصد تک حصص، انتظامی کنٹرول سمیت، حاصل کرنے کے لیے مجموعی طور پر 11 اظہارِ دلچسپی موصول ہوئے تھے۔ مالیاتی مشیر کی جانچ اور مقررہ معیار کے بعد نو پارٹیوں کو اگلے مرحلے میں جانے کی سفارش کی گئی، جس کی بورڈ نے منظوری دے دی۔
پری کوالیفائی ہونے والوں میں ترکی کی تین توانائی کمپنیاں Aktor Elektrik Enerji Yatirimlari، Genvera Enerji اور Cengiz Enerji شامل ہیں۔ پاکستانی اداروں اور کنسورشیمز میں Engro Energy، Sapphire Fibers، Hub Power Holdings Consortium، Shirazi Investments Consortium، Artistic Milliners Consortium اور AKD Securities Consortium شامل ہیں۔
دو دیگر دلچسپی رکھنے والی پارٹیوں میں K-Electric نے تحریری طور پر اپنا اظہارِ دلچسپی واپس لے لیا، جبکہ Al Sharif Contracting & Commercial Development مطلوبہ دستاویزات مکمل نہ کر سکی۔ پری کوالیفائی ہونے والی نو پارٹیوں کو اب ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی دی جائے گی جہاں وہ کمپنی کی مالی، قانونی اور آپریشنل معلومات کا تفصیلی جائزہ لے سکیں گی۔
پری کوالیفکیشن کا مطلب یہ نہیں کہ گیپکو کی فروخت مکمل ہو گئی ہے۔ یہ نجکاری کے عمل کا ایک ابتدائی مگر اہم مرحلہ ہے، جس کے بعد ڈیو ڈیلیجنس، بولی کے قواعد، ممکنہ قیمت اور دیگر منظوریوں کا مرحلہ آئے گا۔ حتمی خریدار اور فروخت کی شرائط بعد کے مسابقتی عمل میں طے ہوں گی۔
اسی اجلاس میں پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ نے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے بڑے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق مذاکراتی کمیٹی کی تشکیلِ نو پر بھی غور کیا۔ بورڈ نے ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی اور زرعی ترقیاتی بینک کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے متعلقہ مشیروں کو بھی ہدایات دیں۔
گیپکو بجلی کی تقسیم کار بڑی کمپنیوں میں شامل ہے، اس لیے اس کی نجکاری کے نتائج بجلی شعبے کی اصلاحات، صارف خدمات اور حکومتی نجکاری پروگرام کے لیے اہم سمجھے جائیں گے۔ تاہم ان اثرات کا درست اندازہ حتمی معاہدے، ریگولیٹری شرائط اور نئے انتظامی ڈھانچے سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔
