اسلام آباد: پاکستان کی مچھلی اور سی فوڈ برآمدات نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ وزارت بحری امور کے جاری کردہ اعداد کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران برآمدی مالیت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 74.40 فیصد بڑھ کر 125.4 ملین ڈالر ہو گئی، جبکہ حجم میں بھی 74 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کے مطابق پہلی سہ ماہی میں برآمدی مقدار 61,679 میٹرک ٹن رہی۔ وزارت کے پیش کردہ تقابلی اعداد میں مالی سال 2024-25 کی پہلی سہ ماہی میں 35,294 میٹرک ٹن اور 2025-26 کی اسی مدت میں 43,995 میٹرک ٹن برآمدات بتائی گئی ہیں، جس سے تین سال میں حجم کے تیز اضافے کی نشاندہی ہوتی ہے۔

مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان نے مچھلی اور دیگر سمندری مصنوعات کی برآمدات سے تقریباً 568 ملین ڈالر حاصل کیے تھے۔ حکومت کے مطابق روس سمیت نئی منڈیوں تک رسائی، امریکا کو جھینگے کی برآمدات بحال کرنے کی کوشش اور خصوصی اقتصادی زون میں ماہی گیری لائسنسنگ نظام کی بحالی کو شعبے کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

بحری امور کے حکام نے کہا کہ ماہی گیری پاکستان کی ساحلی معیشت کا اہم حصہ ہے اور ہزاروں خاندانوں کے روزگار سے جڑی ہوئی ہے۔ برآمدات میں اضافے کے باوجود یورپی یونین جیسی زیادہ منافع بخش منڈیوں میں مستقل رسائی کے لیے معیار، ٹریس ایبلٹی، صفائی، کولڈ چین اور بین الاقوامی فوڈ سیفٹی تقاضوں پر مزید کام درکار ہے۔

وفاقی وزیر نے میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے فشریز ٹریننگ سینٹر کی بحالی پر بھی زور دیا ہے تاکہ ماہی گیروں، پراسیسنگ ورکرز اور متعلقہ عملے کی تکنیکی صلاحیت بہتر ہو سکے۔ ان کے مطابق ادارہ جاتی اور تکنیکی خامیوں کو دور کرنا برآمدی رفتار برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوگا۔

سی فوڈ برآمدات میں حالیہ تیز اضافہ زرمبادلہ کے لیے مثبت اشارہ ہے، تاہم اس رجحان کو پائیدار سمجھنے کے لیے آئندہ سہ ماہیوں میں قیمت، مقدار اور اہم منڈیوں کے الگ الگ اعداد دیکھنا ضروری ہوگا۔ موسمی ماہی گیری، عالمی قیمتیں، برآمدی معیار اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال جیسے عوامل اس شعبے کی طویل مدتی کارکردگی پر اثر انداز ہوں گے۔