اسلام آباد: وزارت خزانہ کی تازہ مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں وفاقی سرکاری اداروں کی مجموعی مالی کارکردگی کمزور ہوئی اور ایڈجسٹڈ خالص منافع میں تقریباً 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جولائی سے دسمبر 2025 کے عرصے میں خالص مجموعی منافع 80.5 ارب روپے رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 114.3 ارب روپے تھا۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی منافع 457.2 ارب روپے سے سات فیصد کم ہو کر 423.3 ارب روپے رہ گیا، جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کے مجموعی نقصانات تقریباً مستحکم رہے اور 342.9 ارب روپے سے معمولی کمی کے ساتھ 342.8 ارب روپے ریکارڈ ہوئے۔ منافع اور نقصان کے درمیان فرق سکڑنے کو وفاقی سرکاری اداروں کے پورٹ فولیو پر بڑھتے مالی اور عملی دباؤ کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

بجلی کا شعبہ سب سے کمزور کارکردگی والا شعبہ رہا۔ رپورٹ کے مطابق پاور سیکٹر کے گردشی قرض میں 374 ارب روپے اضافہ ہوا، جس کی وجوہ میں نااہلی اور کم وصولیاں شامل ہیں۔ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے مجموعی نقصان کا تخمینہ تقریباً 2.8 ارب روپے یومیہ جبکہ سبسڈی، گرانٹس، قرضوں اور ایکویٹی کی صورت میں حکومتی مالی معاونت تقریباً 6.6 ارب روپے یومیہ تک پہنچ گئی۔

وزارت خزانہ نے اس بوجھ کو وفاقی مالی وسائل کے لیے اہم خطرہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلسل مالی معاونت ترقیاتی اخراجات کے لیے دستیاب گنجائش محدود کرتی ہے اور حکومت کی مالی لچک کو کم کرتی ہے۔ سرکاری اداروں پر مجموعی قرضی ذمہ داریاں 10 ٹریلین روپے سے زیادہ بتائی گئی ہیں، جن میں تقریباً 2.5 ٹریلین روپے غیر ملکی کرنسی سے منسلک واجبات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں کی مجموعی ایکویٹی تین فیصد کم ہو کر 6.407 ٹریلین روپے، واجبات ایک فیصد کمی کے ساتھ 30.7 ٹریلین روپے اور مجموعی اثاثے دو فیصد کم ہو کر 37.107 ٹریلین روپے رہ گئے۔ بلند قرض اور محدود منافع خاص طور پر بجلی، انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ جیسے سرمایہ زیادہ استعمال کرنے والے شعبوں میں مالی خطرات بڑھا رہے ہیں۔

وزارت خزانہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مجموعی منافع کا بڑا حصہ چند اداروں، خصوصاً تیل و گیس اور مالیاتی شعبے، پر منحصر ہے۔ اس ارتکاز کی وجہ سے سرکاری اداروں کی مجموعی کارکردگی اجناس کی قیمتوں، شرح مبادلہ، ریگولیٹری تبدیلیوں اور معاشی اتار چڑھاؤ سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ سرکاری اداروں کا مسئلہ صرف انتظامی کارکردگی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ قومی مالیاتی استحکام اور قرض کے بوجھ سے براہ راست جڑا ہوا خطرہ بن چکا ہے۔