اسلام آباد: نجکاری کمیشن کے بورڈ نے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی، گیپکو، کی نجکاری کے لیے نو دلچسپی رکھنے والے فریقوں کو پری کوالیفائی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فریق اب لین دین کے اگلے مرحلے میں داخل ہو سکیں گے، جہاں کمپنی کے مالی، انتظامی اور عملی معاملات کا مزید تفصیلی جائزہ اور بولی کے عمل سے متعلق اقدامات متوقع ہیں۔

نجکاری کمیشن کے مطابق گیپکو میں 51 فیصد سے 100 فیصد تک حصص کے ساتھ انتظامی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مجموعی طور پر 11 اظہارِ دلچسپی موصول ہوئے تھے۔ مالیاتی مشیر نے درخواستوں کو پہلے سے منظور شدہ اہلیتی معیار پر جانچنے کے بعد نو فریقوں کو پری کوالیفکیشن کے لیے موزوں قرار دیا، جس کی بورڈ نے منظوری دے دی۔

بورڈ کے اجلاس کی صدارت وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کی۔ پری کوالیفکیشن کا مرحلہ نجکاری کے عمل میں ابتدائی چھان بین کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی فریق کو کمپنی فروخت کرنے کا حتمی فیصلہ ہو گیا ہے۔ اگلے مراحل میں متعلقہ قواعد کے تحت معلومات تک رسائی، جانچ پڑتال، بولی کی شرائط اور حتمی پیشکشوں کا عمل شامل ہو سکتا ہے۔

گیپکو ملک کی بجلی تقسیم کرنے والی بڑی کمپنیوں میں شامل ہے اور گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے اہم صنعتی اور شہری علاقوں کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ اس لیے کمپنی کی نجکاری کا عمل توانائی شعبے میں حکومت کی وسیع اصلاحات اور سرکاری اداروں میں نجی شعبے کی شمولیت کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

حکومت کئی سرکاری اداروں کی نجکاری یا تنظیم نو کے ذریعے مالی بوجھ کم کرنے، انتظامی کارکردگی بہتر بنانے اور نجی سرمایہ لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے معاملے میں مالی نقصانات، وصولیوں، لائن لاسز، خدمات کے معیار اور سرمایہ کاری کی ضروریات جیسے عوامل اہم رہتے ہیں۔ گیپکو کے لیے نو فریقوں کا اگلے مرحلے تک پہنچنا سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم حتمی نتیجہ بولی، قیمت اور حکومت کی منظوریوں سے مشروط ہوگا۔

نجکاری کمیشن کی جانب سے موصولہ 11 درخواستوں میں سے نو کو اہل قرار دینا اس عمل کو عملی طور پر آگے بڑھانے کا قدم ہے۔ آئندہ مرحلے میں یہ واضح ہوگا کہ کتنے پری کوالیفائیڈ فریق باقاعدہ بولی تک پہنچتے ہیں اور حکومت کمپنی کے کتنے حصص فروخت کرنے کا حتمی فیصلہ کرتی ہے۔