کراچی: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے بنیادی عوامل سرمایہ کاری کے لیے سازگار ہو رہے ہیں اور رواں مالی سال میں مجموعی معاشی نمو تقریباً چار فیصد رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت محض تیز رفتار توسیع کے بجائے ایسی ذمہ دار اور پائیدار نمو چاہتی ہے جو بار بار آنے والے تیزی اور مندی کے معاشی چکروں سے بچ سکے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر خزانہ نے کراچی میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے زیر اہتمام ایک تقریب سے ورچوئل خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً تین سال قبل ملکی معیشت سکڑ رہی تھی، جبکہ اب موجودہ مالی سال کے دوران چار فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سرمایہ کاری سے متعلق بنیادی اشاریوں کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
محمد اورنگزیب نے نجکاری کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ترک کمپنیوں کی دلچسپی کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق حکومت مختلف شعبوں میں نجی سرمایہ اور انتظامی استعداد کو شامل کرنے کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہی ہے۔ تاہم کسی مخصوص نجکاری سودے کی حتمی تکمیل یا قیمت کا اعلان اس بیان میں نہیں کیا گیا۔
بیرونی کھاتے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ چند ہفتے قبل ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچے، اور پاکستان کے پاس تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے مالی گنجائش موجود ہے۔ یہ اعداد وزیر خزانہ کے بیان پر مبنی ہیں اور انہیں معاشی استحکام کی سمت پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا۔
چار فیصد شرح نمو فی الحال ایک تخمینہ ہے، حتمی سالانہ نتیجہ نہیں۔ مالی سال کے دوران عالمی توانائی قیمتوں، برآمدات، درآمدی ضروریات، شرح سود، مالیاتی نظم اور علاقائی حالات سمیت متعدد عوامل اصل شرح نمو پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اسی تناظر میں ذمہ دارانہ نمو کی ضرورت پر زور دیا تاکہ معاشی سرگرمی میں اضافہ بیرونی ادائیگیوں یا مالیاتی عدم توازن کا نیا دباؤ پیدا نہ کرے۔
حکومت کے لیے اگلا اہم امتحان یہ ہوگا کہ معاشی استحکام کے دعوؤں کو سرمایہ کاری، روزگار، برآمدی مسابقت اور نجی شعبے کی سرگرمی میں مستقل بہتری میں کس حد تک تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ وزیر خزانہ کا بیان اس پالیسی سمت کی عکاسی کرتا ہے جس میں نمو اور استحکام کو بیک وقت برقرار رکھنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
