کراچی: خلیجی ممالک کے سرمایہ کاروں کی پاکستان کے طویل مدتی سرکاری بانڈز میں دلچسپی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق یکم ستمبر سے 25 ستمبر تک خلیجی ممالک نے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، یعنی پی آئی بیز، میں مجموعی طور پر 12 کروڑ 98 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس میں متحدہ عرب امارات کا حصہ نمایاں رہا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں نے پی آئی بیز میں 11 کروڑ ڈالر جبکہ ٹریژری بلز میں 50 لاکھ ڈالر لگائے۔ بحرین سے اسی عرصے میں پی آئی بیز میں ایک کروڑ ڈالر اور ٹی بلز میں ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سامنے آئی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق نسبتاً بلند منافع اور حکومتی بانڈز کی کم خطرے والی نوعیت نے خلیجی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یکم جولائی سے 25 ستمبر تک پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز میں مجموعی سرمایہ کاری 20 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہی، جبکہ اسی مدت میں 11 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا اخراج بھی ہوا۔ ٹریژری بلز میں 16 کروڑ 10 لاکھ ڈالر آئے اور 17 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اخراج ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح مجموعی بہاؤ میں آنے اور جانے والی رقوم دونوں شامل ہیں اور اعدادوشمار کو خالص غیر ملکی سرمایہ کاری سے الگ تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
منی مارکیٹ کے ماہر ایس ایس اقبال کے مطابق پختہ ہونے والی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ دوبارہ ملکی بانڈز میں لگایا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ محدود اضافی رقم بھی آ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ رجحان اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کے سرکاری بانڈز بعض بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بن رہے ہیں، تاہم سرمایہ کاری کی موجودہ سطح خلیجی ممالک کی مجموعی مالی استعداد کے مقابلے میں اب بھی محدود ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت طویل مدتی پی آئی بیز کو فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ مختصر مدت میں بار بار ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ بیرون ملک پاکستانی بھی ان بانڈز میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر، پالیسی تسلسل اور معاشی استحکام بنیادی عوامل رہیں گے، اس لیے حالیہ آمد کو مثبت اشارہ تو سمجھا جا سکتا ہے مگر اسے وسیع اور مستقل سرمایہ کاری کے رجحان میں تبدیل ہونے کے لیے مزید وقت اور پالیسی استحکام درکار ہوگا۔
