اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی لائیوسٹاک اور گوشت برآمدات بڑھانے کے لیے خصوصی برآمدی فارمز پر زیادہ پیداوار اور اعلیٰ نسل کے مویشیوں کی ڈیوٹی فری درآمد کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو شعبے کی کارپوریٹ بنیادوں پر تنظیم نو، نجی شعبے کے ماہرین کی شمولیت اور برآمدی اہداف کے ساتھ جامع روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ درآمد کیے جانے والے مویشیوں کو ایسے مخصوص فارمز میں رکھا جائے گا جہاں انہیں برآمدی معیار کے مطابق پالا جائے اور بعد میں بین الاقوامی منڈیوں میں بھیجا جائے۔ وزیراعظم نے اس مقصد کے لیے جدید ٹیگنگ نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی تاکہ درآمد ہونے والے جانوروں کی نگرانی اور ان کے برآمدی استعمال کی تصدیق کی جا سکے۔
وزیراعظم نے منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کے لیے دو ہفتوں میں عملی منصوبہ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔ متعلقہ وزارت کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن اور بیماری سے پاک زونز کے قیام پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عالمی سطح پر گوشت اور زندہ جانوروں کی تجارت میں صحت کی تصدیق بنیادی شرط ہوتی ہے، اس لیے حکومت نے بین الاقوامی سرٹیفکیشن کے مطابق مذبح خانوں اور دیگر سہولیات کی بہتری پر بھی زور دیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ مویشی ہیں جن کی مجموعی تخمینی مالیت 5.5 کھرب روپے ہے۔ لائیوسٹاک شعبہ قومی معیشت میں تقریباً 14.97 فیصد اور زرعی معیشت میں 63.6 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ تقریباً 80 لاکھ دیہی خاندان براہ راست یا بالواسطہ اس شعبے سے وابستہ ہیں، تاہم پیداوار اور سپلائی چین کا بڑا حصہ چھوٹے پیمانے کے فارمز پر مشتمل ہے۔
حکام کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی گوشت برآمدات تقریباً 530 ملین ڈالر رہیں اور خلیجی ممالک ان کی بڑی منڈیاں ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر اہم خریداروں میں شامل ہیں، جبکہ ملائیشیا، چین اور مزید خلیجی منڈیوں میں وسعت کی گنجائش کی نشاندہی کی گئی ہے۔
حکومت نے فارمنگ سے لے کر پروسیسنگ، کولڈ چین، ڈی بوننگ اور ویلیو ایڈڈ گوشت کی تیاری تک پوری ویلیو چین بہتر بنانے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم منظور شدہ اقدامات فوری برآمدی نتائج کی ضمانت نہیں ہیں۔ عملی اثرات کا انحصار بیماریوں کے کنٹرول، فارمز کی تصدیق، عالمی معیار کی تعمیل، نجی سرمایہ کاری اور مطلوبہ برآمدی منڈیوں کی منظوری پر ہوگا۔
