کراچی: خلیجی ممالک کے سرمایہ کاروں کی پاکستان کے سرکاری طویل مدتی بانڈز میں دلچسپی بڑھی ہے اور ستمبر 2026 کے پہلے 25 دنوں میں پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) میں 12 کروڑ 98 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ ڈان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے حوالے سے بتایا کہ اس آمد کا بڑا حصہ متحدہ عرب امارات سے آیا، جبکہ بحرین کے سرمایہ کاروں نے بھی پی آئی بیز اور ٹریژری بلز میں سرمایہ لگایا۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر میں متحدہ عرب امارات سے 11 کروڑ ڈالر پی آئی بیز اور 50 لاکھ ڈالر ٹی بلز میں آئے۔ بحرین سے اسی مہینے 1 کروڑ ڈالر پی آئی بیز اور 1 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ٹی بلز میں سرمایہ کاری ہوئی۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں یکم جولائی سے 25 ستمبر تک پی آئی بیز میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری 20 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہی، جبکہ اسی مدت میں 11 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا اخراج بھی ہوا۔ ٹی بلز میں 16 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی آمد اور 17 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اخراج رپورٹ کیا گیا۔
یہ اعدادوشمار اسٹیٹ بینک کے Special Convertible Rupee Accounts اور متعلقہ غیر ملکی سرمایہ کاری ریکارڈ کے تناظر میں دیکھے جاتے ہیں، جن کے ذریعے بیرونی پورٹ فولیو سرمایہ کار پاکستانی حکومتی سکیورٹیز تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی مالیاتی مارکیٹ معلومات کے مطابق پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامیوں اور دیگر سرکاری سکیورٹیز کے اعدادوشمار باقاعدگی سے شائع کیے جاتے ہیں۔
ڈان سے گفتگو میں منی مارکیٹ ماہر ایس ایس اقبال نے کہا کہ پختہ ہونے والی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ دوبارہ مقامی بانڈز میں لگایا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ کچھ اضافی رقم بھی آرہی ہے۔ ان کے مطابق یہ رجحان اس اعتبار سے مثبت ہے کہ خلیجی سرمایہ کار پاکستانی بانڈز کو منافع اور نسبتاً محفوظ حکومتی آلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، تاہم موجودہ حجم خلیجی سرمایہ کاروں کی مجموعی مالی استعداد کے مقابلے میں اب بھی محدود ہے۔
رپورٹ نے اس رجحان کو موجودہ علاقائی بے یقینی اور امریکا-ایران تنازع کے پس منظر سے بھی جوڑا، مگر خلیجی سرمایہ کاری میں تبدیلی کی تمام وجوہات کو صرف ایک جغرافیائی سیاسی عنصر سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ پورٹ فولیو سرمایہ کاری عموماً شرح منافع، شرح مبادلہ کے خطرے، زرمبادلہ ذخائر، سیاسی و معاشی توقعات اور سرمایہ نکالنے کی سہولت جیسے عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان کے لیے طویل مدتی حکومتی بانڈز میں بیرونی سرمایہ کاری سے قرض کی مدت بڑھانے اور قلیل مدتی رول اوور دباؤ میں کمی کا فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن ایسی رقوم نسبتاً تیزی سے نکل بھی سکتی ہیں۔ اسی لیے ماہرین زرمبادلہ ذخائر مضبوط کرنے، مارکیٹ اعتماد برقرار رکھنے اور پالیسی میں تسلسل کو اس رجحان کے پائیدار ہونے کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔
