اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی لائیوسٹاک اور گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے ایک جامع منصوبے کی منظوری دی ہے جس میں اعلیٰ پیداواری نسلوں کے جانور درآمد کرکے خصوصی فارمز پر پالنے، جدید ٹیگنگ نظام متعارف کرانے اور برآمدی معیار کی پوری ویلیو چین بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق یہ فیصلے وزیراعظم کی زیر صدارت لائیوسٹاک شعبے میں جاری اصلاحات کے جائزہ اجلاس میں کیے گئے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ برآمدات کے لیے مخصوص فارمز قائم کیے جائیں اور ان فارمز کے لیے درآمد کیے جانے والے اعلیٰ نسل کے جانوروں کو ڈیوٹی سے استثنا دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جانوروں کی شناخت اور ٹریس ایبلٹی یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیگنگ نظام نافذ کیا جائے تاکہ برآمدی جانوروں کی نگرانی اور معیار سے متعلق تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ حکومت لائیوسٹاک شعبے کو زیادہ منظم اور کارپوریٹ طرز پر استوار کرنے کے لیے نجی شعبے کے ماہرین کی خدمات لینے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔
اجلاس میں منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کے لیے واضح اہداف پر مبنی روڈ میپ دو ہفتوں میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعظم نے ملک بھر کے مذبح خانوں کی بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور تیسرے فریق سے توثیق کرانے پر بھی زور دیا، جبکہ وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مویشیوں کی بیماریوں کے تدارک پر کام کرنے کا کہا گیا۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ مویشی ہیں اور لائیوسٹاک کا قومی معیشت اور زرعی شعبے میں نمایاں حصہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں گوشت کی برآمدات تقریباً 53 کروڑ ڈالر رہیں اور خلیجی ممالک بڑی منڈیاں رہے۔ اجلاس میں ملائیشیا، سعودی عرب، چین اور دیگر منڈیوں میں برآمدات بڑھانے کی گنجائش کا بھی ذکر کیا گیا۔ حکومت کی توجہ بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن، کولڈ چین، فیڈ لاٹ فارمنگ، حلال و صحت سرٹیفکیشن اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر مرکوز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
