اسلام آباد میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان جاری جائزہ مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد، جس کی قیادت ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں، پاکستانی حکام کے ساتھ دو پروگراموں کے تحت جائزے پر بات چیت کر رہا ہے اور دونوں جانب سے اب میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز، یعنی MEFP، کے مسودے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بنیادی پالیسی نکات پر بات چیت بڑی حد تک مکمل ہو چکی ہے اور وفد آئندہ چند روز میں اپنا دورہ مکمل کر سکتا ہے۔ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہونے اور بعد کے ضروری مراحل طے ہونے کی صورت میں پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم جاری ہونے کی راہ بن سکتی ہے۔ یہ رقم سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی پروگرام سے متعلق ہے۔ حتمی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے متعلقہ عمل سے مشروط رہے گی۔

توانائی کے شعبے میں قیمتوں، سبسڈی اور گردشی قرض کے معاملات بھی جائزے کا حصہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گیس کمپنیوں نے گھریلو صارفین کے لیے محفوظ کیٹیگری کی کم قیمتوں اور لاگت کے درمیان فرق کو گردشی قرض میں اضافے سے جوڑا ہے۔ حکومت نے کم آمدنی والے بجلی صارفین کے لیے سبسڈی کے نظام کو زیادہ ہدفی بنانے کی اصلاحات کا وعدہ بھی کر رکھا ہے، جس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری کے ڈیٹا سے استفادہ شامل ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے پٹرولیم قیمتوں میں استعمال ہونے والے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن میں زیادہ شفافیت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ ڈان کے مطابق کچھ اہداف میں ناگزیر انحراف کے لیے پاکستان کو ممکنہ طور پر استثنا بھی درکار ہو سکتا ہے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو فوری ادائیگی کی حتمی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا؛ پہلے اسٹاف سطح کی کارروائی مکمل ہونا اور پھر بورڈ کے سامنے پاکستان کا کیس جانا ضروری ہوگا۔

مذاکرات کا نتیجہ پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات، بجٹ نظم و ضبط اور توانائی شعبے کی اصلاحات کے لیے اہم ہے۔ حکومت کے لیے اگلا مرحلہ طے شدہ اصلاحات پر عمل درآمد اور ان اقدامات کی بروقت تکمیل ہوگا جنہیں فنڈ پروگرام کے تسلسل کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔